Surah Taha Ayat 56 (20:56)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى 56
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہم نے اس کواپنی سب نشانیاں دکھائیں تو اس نے جھٹلایا اور نہ مانا ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ہم نے اسے اپنی سب نشانیاں دکھائیں تو اس نے جھٹلایا اور نہ مانا۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد ارینه ایتنا كلها:اور بیشک ہم نے اس کواپنی سب نشانیاں دکھائیں ۔} اس ایت اور اس کے بعد والی دو ایات کاخلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے فرعون کو وہ تمام نو نشانیاں دکھا دیں جو اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائی تھیں تو اس نے انہیں جھٹلایا اور نہ مانا اور ان نشانیوں کو جادو بتایا اور حق قبول کرنے سے انکار کیا اور کہنے لگا: اے موسی! کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اپنے جادو کے ذریعے ہماری سرزمین مصرسے نکال کر خود اس پر قبضہ کرلو اور بادشاہ بن جاؤ۔ تو ضرور ہم بھی تمہارے آگے ویسا ہی جادو لائیں گے اور جادو میں ہمارا تمہارا مقابلہ ہو گا تو ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک مدت اور جگہ مقرر کرلو جس کی خلاف ورزی نہ ہم کریں اور نہ تم اور وہ جگہ ہموار ہو اور اس میں دونوں فریقین کے درمیان برابر فاصلہ ہو تاکہ لوگ اسانی کے ساتھ مقابلہ دیکھ سکیں ۔(خازن طہ تحت الایۃ: ۵۶-۵۸ ۳ / ۲۵۶ مدارک طہ تحت الایۃ: ۵۶-۵۸ ص۶۹۴ ملتقطا) فرعون حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزات دیکھ کر سمجھ تو گیا تھا کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام حق پر ہیں اور جادوگر نہیں ہیں کیونکہ اس کے ملک میں اس سے پہلے بھی کئی جادوگر موجود تھے جو خود اس کے ماتحت تھے اور کسی نے بھی کبھی ایسی بات نہ کی تھی لیکن پھر بھی اس نے کوشش کی کہ کسی طرح حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو شکست ہوجائے اور اس کی سلطنت بچ جائے۔