Surah Taha Ayat 83 (20:83)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى 83
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اے موسیٰ! تجھے اپنی قوم سے کس چیز نے جلدی میں مبتلا کردیا؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور تو نے اپنی قوم سے کیوں جلدی کی اے موسیٰ۔
Tafseer (Urdu)
{و ما اعجلك:اور تجھے کس چیز نے جلدی میں مبتلا کردیا} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کاخلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام جب اپنی قوم میں سے ستر آدمیوں کو منتخب کر کے توریت شریف لینے کوہ طور پر تشریف لے گئے پھر اللہ تعالی سے کلام کے شوق میں ان ادمیوں سے آگے بڑھ گئے اور انہیں پیچھے چھوڑتے ہوئے فرمایا کہ میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ تواس پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ’’ اے موسی! علیہ الصلوۃ والسلام تجھے اپنی قوم سے کس چیز نے جلدی میں مبتلا کردیا حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے عرض کی :وہ یہ میرے پیچھے ہیں اور اے میرے رب! عزوجل میں نے تیری طرف اس لئے جلدی کی تاکہ تیرے حکم کو پورا کرنے میں میری جلدی دیکھ کر تیری رضا اور زیادہ ہو۔(مدارک طہ تحت الایۃ: ۸۳-۸۴ ص۶۹۹ روح البیان طہ تحت الایۃ: ۸۳-۸۴ ۵ / ۴۱۲ ملتقطا) کلیم اور حبیب کی رضا میں فرق: یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ اللہ تعالی نے یہاں حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں بتایا کہ ’’ انہوں نے خدا کی رضاچاہی ‘‘ اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لیے اور مقامات پر بتایا: خدا نے ان کی رضا چاہی۔ چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ’’ فلنولینك قبلة ترضىها‘‘(بقرہ:۱۴۴) ترجمہ کنزالعرفان: تو ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس میں تمہاری خوشی ہے۔ اور ارشاد فرماتا ہے ’’و لسوف یعطیك ربك فترضى‘‘(والضحی:۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسی اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے اور اس میں اضافہ کرنے کیلئے کوشاں ہیں جبکہ اللہ تعالی اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رضا چاہ رہاہے۔اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کیا خوب فرماتے ہیں : خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم خدا چاہتا ہے رضائے محمد