Surah Taha Ayat 86 (20:86)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا ﳛ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا۬ؕ-اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ 86
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو موسیٰ اپنی قوم کی طرف غضبناک ہوکر افسوس کرتے ہوئے لوٹے (اور) فرمایا: اے میری قوم ! کیا تمہارے رب نے تم سے اچھا وعدہ نہ کیا تھا؟ کیا مدت تم پر لمبی ہوگئی تھی یا تم نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب اتر آئے؟ پس تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا غصہ میں بھرا افسوس کرتا کہا اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہ کیا تھا کیا تم پر مدت لمبی گزری یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب اُترے تو تم نے میرا وعدہ خلاف کیا ۔
Tafseer (Urdu)
{فرجع موسى الى قومه:تو موسی اپنی قوم کی طرف لوٹے۔} حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے چالیس دن پورے کئے اور وہیں اللہ تعالی کی طرف سے بتا دیا گیا کہ تمہاری قوم گمراہی میں مبتلا ہوگئی ہے ۔ اس پر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام توریت لے کر اپنی قوم کی طرف غضبناک ہوکر لوٹے اوران کے حال پر افسوس کرتے ہوئے فرمانے لگے: اے میری قوم ! کیا تمہارے رب عزوجل نے تم سے اچھا وعدہ نہ کیا تھا کہ وہ تمہیں توریت عطا فرمائے گا جس میں ہدایت ہے نور ہے ہزار سورتیں ہیں اور ہر سورت میں ہزار آیتیں ہیں کیا میرے تم سے جدا ہونے کی مدت تم پر لمبی ہوگئی تھی یا تم نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب عزوجل کا غضب اتر ائے پس تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی اور ایسا ناقص کام کیا ہے کہ بچھڑے کو پوجنے لگے تمہارا وعدہ تو مجھ سے یہ تھا کہ میرے حکم کی اطاعت کرو گے اور میرے دین پر قائم رہو گے۔(مدارک طہ تحت الایۃ: ۸۶ ص۶۹۹ خازن طہ تحت الایۃ: ۸۶ ۳ / ۲۶۰ ملتقطا) اللہ تعالی کے لئے راضی یا ناراض ہونا چاہئے: علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کی نافرمانی ہوتی دیکھ کر اللہ تعالی کی رضا کے لئے نافرمانی کرنے والے پر غصہ ہونا اور اس کے حال پر افسوس کا اظہار کرنا کامل انسان کی فطرت کے لوازمات میں سے ہے لہذا ہر عقلمند انسان کو چاہئے کہ وہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء عظام رحمۃ اللہ تعالی علیہم کے طریقے کی پیروی کرے اور جب کوئی برائی ہوتی دیکھے تو اللہ تعالی کی رضا کیلئے اس پر ناراضی اور غصہ کا اظہار کرے۔(روح البیان طہ تحت الایۃ: ۸۹ ۵ / ۴۱۶) اللہ تعالی کے لئے راضی یا ناراض ہونے کے بارے میں حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’بندہ ایمان کی حقیقت کو نہیں پا سکتایہاں تک کہ وہ اللہ تعالی کے لئے غضب کرے اور اللہ تعالی کے لئے راضی ہو اور جب اس نے ایسا کر لیا تو وہ ایمان کی حقیقت کا مستحق ہوگیا۔( معجم الاوسط باب الالف من اسمہ: احمد ۱ / ۱۹۴ الحدیث: ۶۵۱) اور اس سلسلے میں تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سیرت کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں : رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنی ذات کا کسی سے انتقام نہیں لیا البتہ اگر کوئی اللہ تعالی کی حرمت کے خلاف کرتا تو اس سے اللہ تعالی کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔( بخاری کتاب المناقب باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۲ / ۴۸۹ الحدیث: ۳۵۶۰) حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :ایک ادمی نے عرض کی:یا رسول اللہ!صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہو سکتا ہے کہ میں نماز میں شامل نہ ہو سکوں کیونکہ فلاں ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔ (راوی فرماتے ہیں کہ) میں نے نصیحت کرنے میں سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اس دن سے زیادہ کبھی ناراض نہیں دیکھا تھا۔ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ‘‘اے لوگو! تم متنفر کرتے ہو! تم میں سے جو لوگوں کو نماز پڑھائے وہ تخفیف کرے کیونکہ ان میں بیمار کمزور اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں ۔( بخاری کتاب العلم باب الغضب فی الموعظۃ ۔۔۔ الخ ۱ / ۵۰ الحدیث: ۹۰) افسوس! فی زمانہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے ماتحت کام کرنے والا اگر ان کے کسی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ بسا اوقات اس پر موسلا دھار بارش کی طرح برس پڑتے ہیں لیکن اگر یہی لوگ ان کے سامنے اللہ تعالی اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نافرمانی کرتے ہیں تو ان کے ماتھے پر شکن تک نہیں اتی۔ اللہ تعالی انہیں ہدایت عطا فرمائے امین۔ اللہ تعالی کی ناراضی کا ایک سبب: یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ کچھ بندوں کو اللہ تعالی کی بارگاہ میں وہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ اگر وہ بندے کسی پر غصہ کریں تو اللہ تعالی بھی اس پر غضب فرماتا ہے اور اگر وہ بندے کسی سے راضی ہوں تو اللہ تعالی بھی اس سے راضی ہوتا ہے گویا کہ انہیں ناراض کرنے سے اللہ تعالی بھی ناراض ہوتا ہے اور انہیں راضی کرنے سے اللہ تعالی بھی راضی ہوتا ہے۔ حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: جس نے میرے کسی ولی کی توہین کی اس نے میر ے ساتھ جنگ کا اعلان کر دیا۔(معجم الاوسط باب الالف من اسمہ: احمد ۱ / ۱۸۴ الحدیث: ۶۰۹) لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالی کے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء رحمۃ اللہ تعالی علیہم کا ادب کرے اور ہر ایسے کام سے بچے جو ان کی ناراضی کا سبب بن سکتا ہو۔