Surah Taha Ayat 88 (20:88)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
فَاَخْرَ جَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى۬-فَنَسِیَﭤ 88
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو اس نے ان لوگوں کے لیے ایک بے جان بچھڑا نکال دیا جس کی گائے جیسی آواز تھی تو لوگ کہنے لگے: یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا معبود ہے اور موسیٰ بھول گئے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا بے جان کا دھڑ گائے کی طرح بولتا توبولے یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ کا معبود موسیٰ تو بھول گئے ۔
Tafseer (Urdu)
{فاخر ج لهم عجلا جسدا:تو اس نے ان لوگوں کے لیے ایک بے جان بچھڑا نکال دیا۔}یہ بچھڑا سامری نے بنایا اور اس میں کچھ سوراخ اس طرح رکھے کہ جب ان میں ہوا داخل ہو تو اس سے بچھڑے کی آواز کی طرح آواز پیدا ہو ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ اسپ جبریل کی خاک زیر قدم ڈالنے سے زندہ ہو کر بچھڑے کی طر ح بولتا تھا۔( خازن طہ تحت الایۃ: ۸۸ ۳ / ۲۶۱) {فقالوا:تولوگ کہنے لگے۔} یعنی بچھڑے سے اواز نکلتی دیکھ کرسامری اور اس کے پیروکار کہنے لگے: یہ تمہارا معبود ہے اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا معبود ہے اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام معبود کو بھول گئے اور اسے یہاں چھوڑ کر اس کی جستجو میں کوہ طور پر چلے گئے ہیں ۔ (معاذ اللہ عزوجل) بعض مفسرین نے کہا کہ اس ایت کے اخری لفظ ’’نسی‘‘کا فاعل سامری ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ سامری نے بچھڑے کو معبود بنایا اور وہ اپنے رب کو بھول گیا یا یہ معنی ہے کہ سامری اجسام کے حادث ہونے سے استدلال کرنا بھول گیا۔( مدارک طہ تحت الایۃ: ۸۸ ص۷۰۰ خازن طہ تحت الایۃ: ۸۸ ۳ / ۲۶۱ ملتقطا)