Surah Taha Ayat 9 (20:9)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىﭥ 9
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کیا تمہارے پاس موسیٰ کی خبر آئی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کچھ تمہیں موسیٰ کی خبر آئی۔
Tafseer (Urdu)
{و هل اتىك حدیث موسى:اور کیا تمہارے پاس موسی کی خبر آئی۔}اس سے پہلی ایات میں قران مجید اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا حال بیان کیا گیا اور اب یہاں سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے حالات بیان کئے جا رہے ہیں تاکہ اس سے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دل کو تقویت حاصل ہو اور اس سلسلے میں سب سے پہلے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ بیان کیا گیا کیونکہ انہیں نبوت و رسالت کے فرائض کی ادائیگی میں جس قدر مشقتوں اور سختیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے قلب مبارک کے لئے بہت تسلی ہے چنانچہ یہاں حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے اس سفر کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے جس میں آپ علیہ الصلوۃ والسلام حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام سے اجازت لے کرمدین سے مصر کی طرف اپنی والدہ ماجدہ سے ملنے کے لئے روانہ ہوئے تھے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے اہل بیت ہمراہ تھے اور آپ نے شام کے بادشاہوں (کی طرف سے نقصان پہنچنے) کے اندیشہ سے سڑک چھوڑ کر جنگل میں مسافت طے کرنا اختیار فرمایا اس وقت زوجہ محترمہ حاملہ تھیں چلتے چلتے طور پہاڑکے مغربی جانب پہنچے تویہاں رات کے وقت زوجہ محترمہ کو درد زہ شروع ہوا یہ رات اندھیری تھی برف پڑ رہی تھا اور سردی شدت کی تھی اتنے میں آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو دور سے آگ معلوم ہوئی۔( تفسیرکبیر طہ تحت الایۃ: ۹ ۸ / ۱۵ خازن طہ تحت الایۃ: ۹ ۳ / ۲۴۹-۲۵۰ ملتقطا)