Surah Al Hajj Ayat 46 (22:46)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَاۚ-فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰـكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ 46
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیا یہ لوگ زمین میں نہ چلے کہ ان کے دل ہوں جن سے یہ سمجھیں یا کان ہوں جن سے سنیں پس بیشک آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینو ں میں ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا زمین میں نہ چلے کہ ان کے دل ہوں جن سے سمجھیں یا کان ہوں جن سے سُنیں تو یہ کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینو ں میں ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{افلم یسیروا فی الارض: تو کیا یہ لوگ زمین میں نہ چلے۔} اس ایت میں کفار مکہ کو زمین میں سفر کرنے پر ابھارا گیا تاکہ وہ کفر کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کے مقامات دیکھیں اور ان کے اثار کا مشاہدہ کر کے عبرت حاصل کریں چنانچہ فرمایا گیا کہ کیا کفار مکہ نے زمین میں سفر نہیں کیا تاکہ وہ سابقہ قوموں کے حالات کا مشاہدہ کریں اور ان کے پاس ایسے دل ہوں جن سے یہ سمجھ سکیں کہ انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام کو جھٹلانے کی وجہ سے ان قوموں کا کیا انجام ہوا اور اس سے عبرت حاصل کریں یا ان کے پاس ایسے کان ہوں جن سے پچھلی امتوں کے حالات ان کا ہلاک ہونا اور ان کی بستیوں کی ویرانی کے بارے میں سنیں تاکہ اس سے عبرت حاصل ہو۔ پس بیشک کفار کی ظاہری حس باطل نہیں ہوئی اور وہ ان آنکھوں سے دیکھنے کی چیزیں دیکھتے ہیں بلکہ وہ ان دلوں کے اندھے ہیں جو سینو ں میں ہیں اور دلوں ہی کا اندھا ہونا غضب ہے اور اسی وجہ سے آدمی دین کی راہ پانے سے محروم رہتا ہے۔(مدارک الحج تحت الایۃ: ۴۶ ص۷۴۲-۷۴۳ خازن الحج تحت الایۃ: ۴۶ ۳ / ۳۱۱-۳۱۲ تفسیر کبیر الحج تحت الایۃ: ۴۶ ۸ / ۲۳۳-۲۳۴ ملتقطا) عبرت و نصیحت حاصل کرنے کے لئے فائدہ مند دو چیزیں : اس ایت سے معلوم ہوا کہ ان مقامات کو دیکھنا جہاں اللہ تعالی کا عذاب نازل ہوا ہے اوران قوموں کے بارے میں سننا جن پر اللہ تعالی نے عذاب نازل فرمایا ہےعبرت اورنصیحت حاصل کرنے کے لئے بہت فائدہ مند ہے اور اس دیکھنے اور سننے سے فائدہ اسی صورت میں اٹھایا جا سکتا ہے جب دل سے غورو فکر کرتے ہوئے ان چیزوں کو دیکھا اور ان کے بارے میں سنا جائے اور جو شخص عذاب والی جگہوں کا مشاہدہ توکرے اور عذاب یافتہ قوموں کے بارے میں سنے پھر ان کے حالات وانجام میں غورو فکر نہ کرے تو وہ عبرت و نصیحت حاصل نہیں کر پاتالہذا جب بھی کسی ایسی جگہ سے گزر ہو جہاں اللہ تعالی کا عذاب نازل ہوا تھا یا عذاب میں مبتلا ہونے والی قوم کے واقعات سنیں تو اس وقت دل سے ان پر غور و فکر ضرور کریں تاکہ دل میں اللہ تعالی کے عذاب کا خوف اور ڈر پیدا ہو اور اللہ تعالی کی نافرمانی سے بچنے اور اس کی اطاعت گزاری کرنے میں مدد ملے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ان فی ذلك لذكرى لمن كان له قلب او القى السمع و هو شهید‘‘(ق:۳۷) ترجمہ کنزالعرفان:بیشک اس میں نصیحت ہے اس کے لیے جو دل رکھتا ہو یا کان لگائے اوروہ حاضر ہو۔ اورایک بزرگ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ نصیحت کے ساتھ اپنے دل کوزندہ رکھو غوروفکرکے ساتھ دل کومنورکرو زہد اوردنیاسے بے رغبتی کے ساتھ نفس کومارویقین کے ساتھ اس کو مضبوط کروموت کی یادسے دل کوذلیل کروفنا ہونے کے یقین سے اس کوصبر کرنے والابناؤ زمانے کی مصیبتیں دکھاکراس کوخوفزدہ کرودن اوررات کے ایک دوسرے کے پیچھے انے سے اس کوبیداررکھوگزشتہ لوگوں کے واقعات سے اسے عبرت دلاؤپہلے لوگوں کے قصے سناکراسے ڈراو ان کے شہروں اوران کے حالات میں اس کوغوروفکرکرنے کاعادی بناؤاوردیکھوکہ بدکاروں اورگناہ گاروں کے ساتھ کیسامعاملہ ہوا اوروہ کس طرح الٹ پلٹ کردئیے گے۔( ابن کثیر الحج تحت الایۃ: ۴۶ ۵ / ۳۸۴-۳۸۵) دل کے اندھے پن کا نقصان: اس ایت سے یہ بھی معلوم ہو اکہ جس کا دل بصیرت کی نظر سے اندھا ہو وہ تمام ظاہری اسباب ہونے کے باوجود دین کا راستہ پانے اور حق و ہدایت کی راہ چلنے سے محروم رہتا ہے۔حضرت عبد اللہ بن جراد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اندھاوہ نہیں جوظاہری انکھوں سے محروم ہے بلکہ اندھاوہ ہے جوبصیرت سے محروم ہے۔( نوادرالاصول الاصل التاسع والثلاثون ۱ / ۱۵۷ الحدیث: ۲۴۰) اورحضرت سہل رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :جس شخص کا دل بصیرت سے روشن ہو وہ نفسانی خواہشات اور شہوتوں پر غالب رہتا ہے اور جب وہ دل کی بصیرت سے اندھا ہو جائے تو ا س پر شہوت غالب ا جاتی ہے اور غفلت طاری ہو جاتی ہے اس وقت اس کا بدن گناہوں میں گم ہو جاتا ہے اور وہ کسی حال میں بھی حق کے سامنے گردن نہیں جھکاتا۔( روح البیان الحج تحت الایۃ: ۴۶ ۶ / ۴۵) اللہ تعالی ہمیں دل کی بصیرت عطا فرمائے اور دل کی بصیرت سے اندھا ہونے سے محفوظ فرمائے امین۔