Surah Al Hajj Ayat 47 (22:47)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗؕ-وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ 47
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یہ تم سے عذاب مانگنے میں جلدی کرتے ہیں اور اللہ ہرگز اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرے گا اور بیشک تمہارے رب کے ہاں ایک دن ایسا ہے جو تم لوگوں کی گنتی کے ہزار سال کے برابر ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یہ تم سے عذاب مانگنے میں جلدی کرتے ہیں اور اللہ ہرگز اپنا وعدہ جھوٹا نہ کرے گا اور بیشک تمہارے رب کے یہاں ایک دن ایسا ہے جیسے تم لوگوں کی گنتی میں ہزار برس۔
Tafseer (Urdu)
{و یستعجلونك بالعذاب: اور یہ تم سے عذاب مانگنے میں جلدی کرتے ہیں ۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کفار مکہ جیسے نضر بن حارث وغیرہ مذاق اڑانے کے طور پر اپ سے جلدی عذاب نازل کرنے کا تقاضا کرتے ہیں اور اللہ تعالی ہرگز اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرے گااور وعدے کے مطابق ضرور عذاب نازل فرمائے گا چنانچہ یہ وعدہ بدر میں پورا ہوا اور مذاق اڑانے والے کفار ذلت کی موت مارے گئے۔( روح البیان الحج تحت الایۃ: ۴۷ ۶ / ۴۶) {و ان یوما عند ربك: بیشک تمہارے رب کے ہاں ایک دن ایسا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ بیشک اللہ تعالی کے ہاں آخرت میں عذاب کا ایک دن ایسا ہے جو تم لوگوں کی گنتی کے ہزار سال کے برابر ہے تو یہ کفار کیا سمجھ کر جلدی عذاب نازل کرنے کا تقاضا کرتے ہیں ۔( مدارک الحج تحت الایۃ: ۴۷ ص۷۴۳) یاد رہے کہ اس ایت اور سورہ سجدہ کی ایت نمبر 5میں یہ بیان ہو اکہ قیامت کا دن لوگوں کی گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہو گا اور سورہ معارج کی ایت نمبر4میں یہ بیان ہو اہے کہ قیامت کے دن کی مقدارپچاس ہزار سال ہے۔ان میں مطابقت یہ ہے کہ قیامت کے دن کفار کو جن سختیوں اور ہولناکیوں کا سامنا ہو گا ان کی وجہ سے بعض کفار کو وہ دن ایک ہزار سال کے برابر لگے گا اور بعض کفار کو پچاس ہزار سال کے برابر لگے گا۔