Surah Al Hajj Ayat 48 (22:48)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَاۚ-وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ 48
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر میں نے انہیں پکڑلیا اور میری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کتنی بستیاں کہ ہم نے ان کو ڈھیل دی اس حال پر کہ وہ ستم گار تھیں پھر میں نے انہیں پکڑا اور میری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے ۔
Tafseer (Urdu)
{و كاین من قریة املیت لها: اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں میں نے ڈھیل دی۔} ارشاد فرمایا کہ کثیر بستیاں ایسی ہیں جن میں رہنے والے لوگوں کو ظالم ہونے کے باوجود میں نے ڈھیل دی اور ان سے عذاب کو موخر کیا پھر میں نے مہلت ختم ہونے کے بعد انہیں پکڑلیااور دنیا میں ان پر عذاب نازل کیااوراخرت میں سب کو میری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے تو میں ان کے اعمال کے مطابق ان کے ساتھ سلوک کروں گا۔( روح البیان الحج تحت الایۃ: ۴۸ ۶ / ۴۷) ظلم اللہ تعالی کے عذاب کاسبب ہے: اس ایت سے معلوم ہو اکہ اللہ تعالی ظالم شخص کو ڈھیل دیتا رہتا ہے اور فوری طور پر اس کی گرفت نہیں فرماتا حتی کہ وہ یہ گمان کرنے لگ جاتا ہے کہ اللہ تعالی اس کی گرفت نہیں فرمائے گاپھر اللہ تعالی اس کی وہاں سے پکڑ فرماتا ہے جہاں سے اسے وہم وگمان تک نہیں ہوتا اور اس وقت اپنے اپ کو ملامت کرنے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں رہتا تو ظالم کی نجات اسی میں ہے کہ وہ اپنے اوپر اللہ تعالی کا عذاب نازل ہونے سے پہلے پہلے ظلم سے باز اجائے اور اس کی بارگاہ میں سچی توبہ کر کے جن پر ظلم کیا اور ان کے حقوق کو ضائع کیا ان سے معافی مانگ لے اور ان کے حقوق انہیں ادا کر دے۔ اللہ تعالی عمل کی توفیق عطا فرمائےامین۔