Surah Al Hajj Ayat 55 (22:55)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ 55
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کافر اس سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آجائے یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس میں ان کیلئے کوئی خیر نہ ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کافر اس سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر قیامت آجائے اچانک یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس کا پھل ان کے لیے کچھ اچھا نہ ہو۔
Tafseer (Urdu)
{و لا یزال الذین كفروا فی مریة منه: اور کافر اس سے ہمیشہ شک میں رہیں گے۔} یعنی کافرقران سے یا دین اسلام کے بارے میں ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کے ان پرقیامت اجائے یا انہیں موت اجائے کیونکہ موت بھی قیامت صغری ہے یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس میں ان کیلئے کوئی خیر نہ ہو۔اس دن سے بدر کا دن مراد ہے جس میں کافروں کے لئے کچھ کشادگی اور راحت نہ تھی اور بعض مفسرین کے نزدیک اس سے قیامت کا دن مراد ہے اور ’’الساعۃ‘‘ سے قیامت انے سے پہلے کی چیزیں مراد ہیں ۔( مدارک الحج تحت الایۃ: ۵۵ ص۷۴۵) ایت ’’و لا یزال الذین كفروا‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل: اس ایت سے دو مسئلے معلوم ہوئے (1)…ازلی کافر کے لئے کوئی دلیل مفید نہیں وہ ہمیشہ شک میں گرفتار رہے گا۔ (2)… موت کے وقت یا قیامت میں یا اللہ تعالی کا عذاب دیکھ کر کفار ایمان قبول کر لیتے ہیں مگر وہ ایمان اللہ عزوجل کے نزدیک معتبر نہیں ۔