Surah Al Hajj Ayat 63 (22:63)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً٘-فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةًؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ 63
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے بیشک اللہ بڑا مہربان، خبردار ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اُتارا تو صبح کو زمین ہریالی ہوگئی بیشک اللہ پاک خبردار ہے۔
Tafseer (Urdu)
{الم تر: کیا تو نے نہ دیکھا۔} اس سے پہلے اللہ تعالی کی قدرت پر دلالت کرنے والی ایک نشانی دن اور رات کو کم زیادہ کرنا ذکر کی گئی اور اب یہاں سے اللہ تعالی کی قدرت کے مزید دلائل ذکر کئے جا رہے ہیں چنانچہ ارشاد فرمایا کہ کیا تو نے نہ دیکھا کہ خشک زمین پر جب اللہ تعالی اسمان سے بارش کا پانی نازل فرماتا ہے تووہ نباتات سے سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے اور یہ اللہ تعالی کی قدرت کی ایک نشانی ہے۔ بیشک اللہ تعالی پانی کے ذریعے زمین سے نباتات نکال کر اپنے بندوں پربڑا مہربان ہے اور بارش میں تاخیر ہونے کی وجہ سے جو کچھ ان کے دلوں میں اتا ہے اس سے خبردار ہے۔(تفسیرکبیر الحج تحت الایۃ: ۶۳ ۸ / ۲۴۶ جلالین الحج تحت الایۃ: ۶۳ ص۲۸۵ ملتقطا) {له ما فی السموت و ما فی الارض: جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا حقیقی مالک وہی ہے اور ا س ملکیت میں اس کا کوئی شریک نہیں اور بیشک اللہ تعالی ہی ہر چیز سے بے نیاز اور اپنے افعال و صفات میں تمام تعریفوں کا مستحق ہے۔( جلالین الحج تحت الایۃ: ۶۴ ص۲۸۵ روح البیان الحج تحت الایۃ: ۶۴ ۶ / ۵۶ ملتقطا)