Surah Al Hajj Ayat 65 (22:65)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖؕ-وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ 65
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے قابومیں کردیا جو کچھ زمین میں ہے اور کشتی کو جو دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے اور وہ آسمان کو روکے ہوئے ہے کہ کہیں زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے حکم سے۔ بیشک اللہ لوگوں پر بڑی مہربانی فرمانے والا،رحم فرمانے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے بس میں کردیا جو کچھ زمین میں ہے اور کشتی کہ دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے اور وہ روکے ہوئے ہے آسمان کو کہ زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے حکم سے بیشک اللہ آدمیوں پر بڑی مہر والا مہربان ہے۔
Tafseer (Urdu)
{الم تر ان الله سخر لكم ما فی الارض: کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے قابومیں کردیا جو کچھ زمین میں ہے۔} یہاں سے اللہ تعالی اپنے ان احسانات کا ذکر فرما رہا ہے جو اس نے اپنے بندوں پر فرمائے ہیں چنانچہ ایت کے اس حصے میں ارشاد فرمایا کہ جو کچھ زمین میں ہے اسے اللہ تعالی نے تمہارے قابومیں کر دیا جیسے پتھر جیسی سخت ترین لوہے جیسی انتہائی وزنی اور اگ جیسی انتہائی گرم چیز کو تمہارے اختیار میں دے دیا اور جانوروں کو بھی تمہارے لئے مسخر کر دیا تاکہ تم ان کا گوشت کھا سکوان پر سامان وغیرہ لاد سکو ان پر سواری کر سکو اور ان سے دیگر کام لے سکو۔( تفسیرکبیر الحج تحت الایۃ: ۶۵ ۸ / ۲۴۷) ان سب چیزوں کاعملی مشاہدہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کرتے رہتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے بچے اونٹ جیسے قوی ہیکل اور گائے جیسے طاقتورجانورکواس طرح لے کرجارہے ہوتے ہیں جیسے وہ بچوں کاکوئی کھلوناہو۔ {و الفلك تجری فی البحر بامره: اور کشتی کو جو دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے۔} ایت کے اس حصے میں دوسرے احسان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ کشتی جو دریا میں اللہ تعالی کے حکم سے چلتی ہے اسے اللہ تعالی نے تمہارے قابو میں دے دیا اور تمہاری خاطر کشتی چلانے کے لئے ہوا اور پانی کو مسخر کر دیا۔( تفسیرکبیر الحج تحت الایۃ: ۶۵ ۸ / ۲۴۷) {و یمسك السمآء ان تقع على الارض: اور وہ اسمان کو روکے ہوئے ہے کہ کہیں زمین پر نہ گر پڑے۔} یہاں تیسرے احسان کا ذکر فرمایاکہ اللہ تعالی اپنی قدرت سے اسمان کو روکے ہوئے ہے تاکہ وہ زمین پر گر نہ پڑے اور اس نے لوگوں کو جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں وہ ختم نہ ہو جائیں البتہ جب قیامت قائم ہو گی تو اللہ تعالی کے حکم سے اسمان گر جائے گا۔ایت کے اخر میں ارشاد فرمایاکہ بیشک اللہ تعالی لوگوں پر بڑی مہربانی فرمانے والارحم فرمانے والا ہے کہ اس نے ان کے لئے دین و دنیا کی منفعتوں کے دروازے کھولے اور طرح طرح کے نقصانوں سے انہیں محفوظ کیا۔( تفسیر کبیر الحج تحت الایۃ: ۶۵ ۸ / ۲۴۸ بیضاوی الحج تحت الایۃ: ۶۵ ۴ / ۱۳۹ خازن الحج تحت الایۃ: ۶۵ ۳ / ۳۱۶ ملتقطا)