Surah Al Hajj Ayat 66 (22:66)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ٘-ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْؕ-اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ 66
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی پھر وہ تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گابیشک آدمی بڑا ناشکرا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہی ہے جس نے تمہیں زندہ کیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا بیشک آدمی بڑا ناشکرا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و هو الذی احیاكم: اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی۔} ارشاد فرمایا کہ تمہارا معبود وہی ہے جس نے تمہاری ماوں کے رحموں میں بے جان نطفے سے پیدا فرما کر تمہیں زندگی بخشی پھر تمہاری عمریں پوری ہونے پر وہ تمہیں موت دے گا پھر قیامت کے دن ثواب اور عذاب کے لئے تمہیں دوبارہ زندہ کرے گابیشک آدمی بڑا ناشکرا ہے کہ اللہ تعالی کی اتنی نعمتوں کے باوجود اس کی عبادت سے منہ پھیرتا ہے اور بے جان مخلوق کی پوجا کرتا ہے۔( خازن الحج تحت الایۃ:۶۶ ۳ / ۳۱۶ مدارک الحج تحت الایۃ: ۶۶ ص۷۴۷ جلالین الحج تحت الایۃ: ۶۶ ص۲۸۵ ملتقطا) شکر گزار اور ناشکرا بندہ: یہاں ایت میں بڑے ناشکرے انسان سے کافر مراد ہے البتہ عمومی طور پر دیکھا جائے تو اللہ تعالی نے ہر انسان کو یہ عزت عظمت اور شان عطا فرمائی ہے کہ پہلے اسے جمادات کے عالم سے نباتات کے عالم کی طرف منتقل کیا پھر اسے جانداروں کے عالم کی طرف منتقل کیاپھر اسے بولنے اور کلام کرنے کی صلاحیت سے نوازا اور اسے ظاہری و معنوی نعمتیں عطا کیں اور تمام موجود چیزوں کو اس کا خادم بنایا اس لئے ہربندے پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نعمتوں کو ا س کی پسند اور رضا کے کاموں میں استعمال کر کے اس کے لطف و کرم اور بے پناہ انعامات کا شکر ادا کرے۔