Surah Al Hajj Ayat 68 (22:68)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 68
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر وہ تم سے جھگڑیں تو فرمادو کہ اللہ خوب جانتا ہے جو تم کررہے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر وہ تم سے جھگڑیں تو فرمادو کہ اللہ خوب جانتا ہے تمہارے کوتک۔
Tafseer (Urdu)
{و ان جدلوك: اور اگر وہ تم سے جھگڑیں ۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کاخلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اگر حق ظاہر ہونے اور حجت لازم ہونے کے بعد بھی وہ اپ سے جھگڑا کریں تو اپ ان سے وعید کے طور پر فرما دیں کہ اللہ تعالی ان باطل کاموں کو خوب جانتا ہے جو تم کررہے ہو اور وہ تمہیں یہ کام کرنے کی سزا دے گا۔ اللہ تعالی تمہارے درمیان قیامت کے دن اس بات میں فیصلہ کردے گا جس میں تم اختلاف کررہے ہو تو اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ حق کیا تھا اور باطل کیا ہے۔( روح البیان الحج تحت الایۃ: ۶۸-۶۹ ۶ / ۵۸ تفسیر کبیر الحج تحت الایۃ: ۶۸-۶۹ ۸ / ۲۴۹ ملتقطا) ہر باتونی اورجھگڑالو سے مناظرہ نہیں کرنا چاہیے: اس سے معلوم ہوا کہ ہر باتونی اورجھگڑالو سے مناظرہ نہیں کرنا چاہیے اور یہ بات اس واقعے سے مزید مضبوط ہو جاتی ہے کہ جب شیطان نے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو سجدہ نہ کرنے پر دلائل پیش کئے تو اللہ تعالی نے اس کے دلائل کا جواب نہ دیا بلکہ ا س سے فرمایا: ’’فاخر ج منها فانك رجیم‘‘(حجر:۳۴) ترجمہ کنزالعرفان: تو جنت سے نکل جا کیونکہ تو مردود ہے۔ علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد قرطبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اس ایت میں اللہ عزوجل نے اپنے بندوں کوبڑاعمدہ ادب سکھایاہے کہ جوشخص محض تعصب اورجھگڑاکرنے کے شوق میں تم سے مناظرہ کرناچاہے تواسے کوئی جواب نہ دواورنہ اس کے ساتھ مناظرہ کرو بلکہ اس کی تمام باتوں کے جواب میں صرف وہ بات کہہ دو جو اللہ تعالی نے اپنے رسول کوسکھائی ہے۔( قرطبی الحج تحت الایۃ: ۶۹ ۶ / ۷۲ الجزء الثانی عشر)