Surah Al Muminun Ayat 100 (23:100)
The Believers · Juz 18 · Makki
لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّاؕ-اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىٕلُهَاؕ-وَ مِنْ وَّرَآىٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ 100
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجس دنیا کو میں نے چھوڑدیا ہے شاید اب میں اس میں کچھ نیک عمل کرلوں ۔ ہرگز نہیں ! یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے آگے ایک رکاوٹ ہے اس دن تک جس دن وہ اٹھائے جائیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanشاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں اس میں جو چھوڑ آیا ہوں ہِشت یہ تو ایک بات ہے جو وہ اپنے منہ سے کہتا ہے اور ان کے آگے ایک آڑ ہے اس دن تک جس میں اٹھائے جائیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{لعلی اعمل صالحا: شاید اب میں کچھ نیک عمل کرلوں ۔} ارشاد فرمایا کہ کافر اپنی موت کے وقت عرض کرے گا کہ اے میرے رب! عزوجل مجھے دنیا کی طرف واپس لوٹادےشاید اب میں اس دنیا میں کچھ نیک عمل کرلوں جسے میں نے چھوڑدیا ہے اور نیک اعمال بجا لا کر اپنی غلطیوں اورکوتاہیوں کا تدارک کروں ۔ اس پر اس سے فرمایا جائے گا’’ہرگز نہیں ! یہ تو ایک بات ہے جو وہ حسرت و ندامت سے کہہ رہا ہے یہ ہونے والی نہیں اور اس کا کچھ فائدہ نہیں ۔ مزید ارشاد فرمایا کہ ان کے آگے ایک رکاوٹ ہے جو انہیں دنیا کی طرف واپس ہونے سے مانع ہے اور وہ موت ہے کہ قانون الہی یہی ہے کہ جو مرگیا وہ دوبارہ دنیا میں نہیں لوٹایا جائے گا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ انبیاء و اولیاء کا قدرت الہی اور اذن الہی سے مردوں کو زندہ کرنا اس ایت کے منافی نہیں کہ ایت میں عمومی قانون بیان کیا گیا ہے جبکہ انبیاء و اولیاء کا زندہ کرنا قدرت الہی کا اظہار ہے۔ موت کے وقت دنیا میں واپسی کا سوال مومن و کافر دونوں کریں گے: یاد رہے کہ جس طرح کافراپنی موت کے وقت ایمان لانے اورنیک اعمال کرنے کے لئے دوبارہ دنیا میں لوٹا دئیے جانے کاسوال کریں گے اسی طرح وہ مسلمان بھی دنیا میں لوٹائے جانے کا سوا ل کریں جنہوں نے نیک اعمال کرنے میں کمی یا کوتاہی کی ہو گی چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ یایها الذین امنوا لا تلهكم اموالكم و لا اولادكم عن ذكر الله-و من یفعل ذلك فاولىك هم الخسرون(۹)و انفقوا من ما رزقنكم من قبل ان یاتی احدكم الموت فیقول رب لو لا اخرتنی الى اجل قریب-فاصدق و اكن من الصلحین(۱۰)و لن یؤخر الله نفسا اذا جآء اجلها-و الله خبیر بما تعملون‘‘ (منافقون:۹۔۱۱) ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاریاولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردے اور جو ایسا کرے گاتو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے اس وقت سے پہلے پہلے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرلو کہ تم میں کسی کو موت آئے تو کہنے لگے اے میرے رب !تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالحین میں سے ہوجاتا۔اور ہرگز اللہکسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا وعدہ آجائے اور اللہتمہارے کاموں سے خبردار ہے۔ ترمذی شریف میں ہےحضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا:جس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ بیت اللہ شریف کا حج کرنے پہنچ سکتا ہو یا اس پر زکوۃ فرض ہو اس کے باوجود وہ حج نہ کرے یا زکوۃ نہ دے تو وہ مرتے وقت دنیا میں واپسی کا سوال کرے گا۔ایک شخص نے کہا:اے عبد اللہ بن عباس! رضی اللہ تعالی عنہما اپ اللہ تعالی سے ڈریں دنیا میں واپسی کا سوال تو صرف کفار کریں گے (اور اپ مسلمانوں کے بارے میں ایسا کہہ رہے ہیں ) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا:میں اس کے بارے میں تمہارے سامنے قران مجید کی ایات پڑھتا ہوں چنانچہ اپ نے سورہ منافقون کی ان تین ایات کی تلاوت فرمائی۔( ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ المنافقین ۵ / ۲۰۸ الحدیث: ۳۳۲۷) لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالی کی عبادت کی ادائیگی اور ا س کے احکام کی بجا اوری میں ہر گز ہر گز غفلت سے کام نہ لے اور دنیا کی زندگی میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کر لے تاکہ موت کے وقت ایسے حال کا سامنا کرنے سے محفوظ رہے۔