Surah Al Muminun Ayat 115 (23:115)
The Believers · Juz 18 · Makki
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ 115
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{افحسبتم: تو کیا تم یہ سمجھتے ہو۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے کفار کو مزید سرزنش فرمائی کہ اے بد بختو! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاو گےایسانہیں بلکہ ہم نے تمہیں عبادت کے لئے پیدا کیا تاکہ تم پر عبادت لازم کریں اور آخرت میں تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ تو تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دیں ۔( مدارک المومنون تحت الایۃ: ۱۱۵ ص۷۶۷ ملخصا) اللہ تعالی کی عبادت سے غفلت دانشمندی نہیں : یاد رہے کہ ہماری زندگی کا اصلی مقصد اللہ تعالی کی عبادت کرنا ہےجیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’ و ما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون‘‘(الذاریات:۵۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ ہمیں بالکل ازاد نہیں چھوڑا جائے گا کہ نہ ہم پر امرونہی وغیرہ کے احکام ہوں نہ ہمیں مرنے کے بعد اٹھایا جائے نہ ہم سے اعمال کا حساب لیا جائے اور نہ ہمیں آخرت میں اعمال کی جزا دی جائے ایسا نہیں ہے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ ایحسب الانسان ان یترك سدى‘‘(القیامہ:۳۶) ترجمہ کنزالعرفان: کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ اسے آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔ جب ہماری پیدائش کا اصل مقصد اللہ تعالی کی عبادت ہے اور ہم شریعت کے احکام سے ازاد بھی نہیں ہیں اور ہمیں قیامت کے دن اپنے ہر عمل کا حساب بھی بہر صورت دینا ہے تو اللہ تعالی کی عبادت سے غافل ہو کر دنیا کے کام دھندوں میں ہی مصروف رہنا کہاں کی دانشمندی ہے۔