Surah Al Muminun Ayat 44 (23:44)
The Believers · Juz 18 · Makki
ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَاؕ-كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَۚ-فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ 44
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر ہم نے لگاتار اپنے رسول بھیجے۔ جب کبھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا توانہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے ایک کو دوسرے سے ملادیا اور انہیں داستانیں بنا ڈالا تو ایمان نہ لانے والے دور ہوں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر ہم نے اپنے رسول بھیجے ایک پیچھے دوسرا جب کسی اُمت کے پاس اس کا رسول آیا انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اگلوں سے پچھلے ملادئیے اور انہیں کہانیاں کر ڈالا تو دُور ہوں وہ لوگ کہ ایمان نہیں لاتے۔
Tafseer (Urdu)
{ثم ارسلنا رسلنا تترا: پھر ہم نے لگاتار اپنے رسول بھیجے۔} یعنی جس طرح ہم نے ایک کے بعد دوسری قوم کو پیدا کیا اسی حساب سے ہم نے ان میں لگاتار اپنے رسول بھیجے اور جب کبھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا توانہوں نے پہلوں کی طرح اسے جھٹلایا اور اس کی ہدایت کو نہ مانا اور اس پر ایمان نہ لائے تو ہم نے انہیں ہلاک کرکے ایک کو دوسرے سے ملادیا اور بعد والوں کو پہلوں کی طرح ہلاک کردیااور انہیں داستانیں بنا ڈالاکہ بعد والے افسانے کی طرح ان کا حال بیان کیا کریں اور ان کے عذاب اور ہلاکت کا بیان عبرت کا سبب ہو تو ایمان نہ لانے والے اللہ تعالی کی رحمت سے دور ہوں۔( تفسیرکبیر المومنون تحت الایۃ: ۴۴ ۸ / ۲۷۸ روح البیان المومنون تحت الایۃ: ۴۴ ۶ / ۸۴-۸۵ ملتقطا) جنت کی نعمتیں پانے کا ذریعہ اور جہنم کے عذاب میں مبتلا ہونے کا سبب : اس ایت سے معلوم ہوا کہ جس طرح جنت کی نعمتیں ملنے اور جہنم کے عذاب سے نجات کا ذریعہ ایمان لانا ہے اسی طرح دنیا میں ہلاکت اور اخرت میں جہنم کے دردناک عذاب میں مبتلا ہونے کاسبب ایمان نہ لانا ہے لہذا ہر عقل مند انسان پر لاز م ہے کہ وہ کفر کر کے اپنی جان کے ساتھ دشمنی نہ کرے بلکہ اللہ تعالی کی وحدانیت سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رسالت اور تمام ضروریات دین پر ایمان لاکر عقلمندی کا ثبوت دے اور اپنی جان کو ہلاکت سے بچائے۔