Surah Al Muminun Ayat 53 (23:53)
The Believers · Juz 18 · Makki
فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًاؕ-كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ 53
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو ان کی امتوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا، ہرگروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو ان کی امتوں نے اپنا کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر خوش ہے۔
Tafseer (Urdu)
{فتقطعوا: تو ان کی امتوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر لیا۔} یعنی اللہ عزوجل کا دین ایک ہی ہے البتہ ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی امتوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا اور یہودی عیسائی مجوسی وغیرہ فرقے فرقے ہوگئے۔ معنی یہ ہے کہ ہر قوم نے ایک کتاب کو مضبوطی سے تھام لیا صرف اسی پر ایمان لائے اور دیگر کتابوں کا انکار کر دیا۔ ہر گروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے اور اپنے ہی آپ کو حق پر جانتا ہے اور دوسروں کو باطل پر سمجھتا ہے۔ اس طرح ان کے درمیان دینی اختلافات ہیں۔( تفسیرسمرقندی المومنون تحت الایۃ: ۵۳ ۲ / ۴۱۵ خازن المومنون تحت الایۃ: ۵۳ ۳ / ۳۲۷ ملتقطا) اسی طرح امتیں یوں بھی ٹکڑوں میں بٹیں کہ فرقوں میں بٹ گئیں اور اپنے دین کی اپنی اپنی تشریحات بنالیں جیسے یہودیوں اور عیسائیوں میں ہوا کہ بیسیوں فرقوں میں بٹ گئے۔دین کی یہ تفریق بھی حرام ہے۔ اس حوالے سے یہاں دو احادیث ذکر کی جاتی ہیں ۔ (1)… حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا’’خبردار ہو جاو!تم سے پہلے اہل کتاب بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور عنقریب یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گیبہتر فرقے تو جہنم میں جائیں گے اور ایک ہی فرقہ جنت میں جائے گا اوروہ سب سے بڑی جماعت ہے۔‘‘ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ عنقریب میری امت میں ایسے لوگ نکلیں گے کہ گمراہی ان میں یوں سرایت کر جائے گی جیسے باولے کتے کے کاٹے ہوئے ادمی کے جسم میں زہر سرایت کر جاتا ہے۔ایک روایت میں یوں ہے کہ جیسے کتے کے کاٹے ہوئے کے جسم میں زہر داخل ہو جاتا ہے کہ کوئی رگ اور کوئی جوڑ اس سے نہیں بچتا۔( ابو داود کتاب السنۃ باب شرح السنۃ ۴ / ۲۶۳ الحدیث: ۴۵۹۷) (2)…حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :ایک دن صبح کی نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہمیں انتہائی بلیغ وعظ فرمایا جس سے ہر انکھ سے انسو رواں ہو گئے اور سب کے دل لرز گئے۔ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی: یہ تو ا س شخص کی نصیحت کی طرح ہے جو رخصت ہو رہا ہو۔ یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ہمیں کس بات کا حکم دیتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’میں تمہیں اللہ تعالی سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں اور اگر کوئی حبشی غلام تمہارا امیر مقرر کر دیا جائے تو ا س کا بھی حکم سننا اور اس کی اطاعت کرنا۔بے شک تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا۔ تم (شریعت کے خلاف) نئی باتوں سے بچتے رہنا کیونکہ یہ گمراہی ہے۔تم میں جو شخص یہ زمانہ پائے اسے میرا اور میرے ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والے خلفاء کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے اور تم سنت کو مضبوطی سے پکڑ لو۔( ترمذی کتاب العلم باب ما جاء فی الاخذ بالسنۃ واجتناب البدع ۴ / ۳۰۸ الحدیث: ۲۶۸۵)