Surah Al Muminun Ayat 69 (23:69)
The Believers · Juz 18 · Makki
اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ 69
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیاکیا اُنہوں نے اپنے رسول کو پہچانانہیں ہے؟ تو وہ اس کا انکار کررہے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیا انہوں نے اپنے رسول کو نہ پہچانا تو وہ اسے بیگانہ سمجھ رہے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{ام لم یعرفوا: یا کیا انہوں نے پہچانانہیں ہے} کفار مکہ سے مزید فرمایا کہ کیا انہوں نے اپنے رسول کو پہچانانہیں اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عمر شریف کے جملہ احوال کو نہ دیکھا اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے عالی نسب صدق و امانت وفور عقل حسن اخلاق کمال حلم وفا و کرم اور مروت وغیرہ پاکیزہ اخلاق اچھی صفات اور بغیر کسی سے سیکھے آپ کے علم میں کامل اور تمام جہان سے زیادہ علم رکھنے اور فائق ہونے کو نہ جانا کیا ایسا ہے حقیقت میں یہ بات تو نہیں بلکہ وہ سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اوصاف و کمالات کو خوب جانتے ہیں اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی برگزیدہ صفات شہرہ آفاق ہیں پھر بھی وہ بلاوجہ ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس پیارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا انکار کررہے ہیں ۔( خازن المومنون تحت الایۃ : ۶۹ ۳ / ۳۲۸ مدارک المومنون تحت الایۃ: ۶۹ ص۷۶۱ روح البیان المومنون تحت الایۃ: ۶۹ ۶ / ۹۴ ملتقطا) حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عظمت پہچاننے کا ایک طریقہ: قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے کلام کی روشنی میں یہاں ایک مختصر مضمون دیا جارہا ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عظمت پہچاننے اور اپ کے محبت کیلئے قابل ترین ہستی ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل یہ ہے کہ انسان کے کچھ کمالات فطری ہوتے ہیں جیسے حسنقوتعقل فہم کی درستی زبان کی فصاحت حواس اور اعضاء کی قوتمعتدل حرکاتنسب کی شرافت قومی عزتوطنی کرامت۔ نیز کچھ چیزیں زندگی کی ضرورت ہوتی ہیں جو اگرچہ دنیوی ہوتی ہیں لیکن جب ان سے تقوی مقصود ہو تو وہ اخرت کی خوبیوں اور خصلتوں کے ساتھ لاحق ہوجاتی ہیں جیسے غذانیندلباس مکان نکاحمال اور عہدہ و منصب وغیرہ اور کچھ اوصاف وہ ہوتے ہیں جو مطلقا اخرت کے شمار ہوتے ہیں جیسے تمام بلند اخلاق شرعی اداب علم بردباری صبر شکرانصافزہد تواضع عفو عفت سخاوت شجاعت حیائ مروت خاموشی سکون وقار مہربانی اداب و معاشرت کا حسن وغیرہ ۔ اوریہی وہ خصائل ہیں جن کے مجموعہ کو حسن خلق سے تعبیر کیا جاتاہے۔ان میں سے بعض خصلتیں تو کسی کی فطری عادت ہوتی ہیں اور کسی کی فطری تو نہیں ہوتی لیکن وہ انہیں محنت و ریاضت سے حاصل کرلیتا ہے۔ ان خوبیوں کا حال یہ ہے کہ کسی شخص میں ان میں سے ایک یا دو بھی پائی جائیں تو وہ بڑا مشرف ومعزز مانا جاتا ہےمثلا نسب یا جمال یا قوت یا علم یا شجاعت یا سخاوت وغیرہ میں سے ایک بھی وصف پایا جائے تو وہ پسندیدہ محبوب اور عظیم بن جاتا ہے حتی کہ اس بندے کی قدر اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ا س کے نام کو مثال کے طور پر پیش کیاجاتا ہے اور اس وصف کی وجہ سے دلوں میں اس کے اثر اورعظمت کا سکہ جم جاتا ہے اور یہ بات گزشتہ زمانے سے چلی ارہی ہےتوپھر ا س ذات اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عظمت اور محبوبیت کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جس میں یہ تمام کے تمام محاسن و خصائل پیدائشی اور فطری طور پر کامل ترین طرز پر جمع ہیں جن سے بہتر جامعیت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔