Surah Al Muminun Ayat 71 (23:71)
The Believers · Juz 18 · Makki
وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّؕ-بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَﭤ 71
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر حق ان کی خواہشوں کی پیروی کرتا تو ضرور آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں سب تباہ ہوجاتے بلکہ ہم تو ان کے پاس ان کی نصیحت لائے ہیں تو وہ اپنی نصیحت ہی سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر حق ان کی خواہشوں کی پیروی کرتا تو ضرور آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں سب تباہ ہوجاتے بلکہ ہم تو ان کے پاس وہ چیز لائے جس میں ان کی ناموری تھی تو وہ اپنی عزت سے ہی منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و لو اتبع الحق اهوآءهم: اور اگر سچا قران ان کی خواہشوں کی پیروی کرتا۔} یعنی اگر قران شریف ان کی خواہشات اور نظریات کے مطابق نازل ہوتا اس طرح کہ اس میں وہ مضامین مذکور ہوتے جن کی کفار خواہش کرتے ہیں تو تمام عالم کا نظام درہم برہم ہوجاتا کیونکہ قران سچی کتاب ہے اور اس میں اگر یہ مضامین مذکور ہوتے تو حقیقت میں بھی ایسا ہی ہوتا اورجب ایک سے زیادہ خدا ہوں تو ہر خدا کا حکم دوسرے کے مخالف ہوتا یونہی سب کے ارادے کا ایک ہی وقت میں پورا ہونا محال ہے اور یوں کائنات کا نظام تباہ ہو کر رہ جاتا لیکن ہم تو ان کے پاس قران لائے ہیں اور ہم یہ قران حقیقت میں ان کی تباہی کا ذریعہ بنا کر نہیں لائے بلکہ ہم تو اسے ان کے پاس قران کی صورت میں نصیحت لائے ہیں مگروہ تو اپنی نصیحت ہی سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔( خازن المومنون تحت الایۃ: ۷۱ ۳ / ۳۲۹ جلالین المومنون تحت الایۃ: ۷۱ ص۲۹۱ ملتقطا) ایک دوسری تفسیر کے اعتبار سے اس کا معنی یہ ہے کہ ہم یہ قران حقیقت میں ان کی تباہی کا ذریعہ بنا کر نہیں لائے بلکہ ہم تو اسے ان کے پاس قران کی صورت میں ان کی عزت و شہرت کا ذریعہ لائے ہیں کہ یہ اس پر عمل کرکے عزت و شہرت دونوں کما سکتے ہیں لیکن وہ تو اپنی عزت و شہرت ہی سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔