Surah An Naml Ayat 52 (27:52)
The Ant · Juz 19 · Makki
فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْاؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ 52
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب ویران پڑے ہیں ، بیشک اس میں جاننے والوں کیلئے (عبرت کی) نشانی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو یہ ہیں ان کے گھر ڈھئے پڑے بدلہ ان کے ظلم کا بیشک اس میں نشانی ہے جاننے والوں کے لیے۔
Tafseer (Urdu)
{فتلك بیوتهم خاویة: تو یہ ان کے گھر ویران پڑے ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ قوم ثمودکی ہلاکت کے بعدان کے گھر ویران پڑے ہیں اور اب ان گھروں میں اس قوم کا کوئی شخص بھی موجود نہیں اور ان کا یہ انجام اللہ تعالی کے ساتھ شرک کر کے اور اس کے رسول کو جھٹلا کر اپنی جانوں پر ظلم کرنے کی وجہ سے ہوا اور اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہم نے اپ کے سامنے قوم ثمود کاجو واقعہ بیان فرمایااس میں ان لوگوں کے لئے عبرت کی نشانی موجود ہے جو علم رکھتے ہیں لہذا اگر اپ کی قوم کے کفار اپ کو جھٹلانے سے باز نہ ائے تو ان کا انجام بھی قوم ثمود جیسا ہو سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو یہ ان کے حق میں کسی طرح بہتر نہ ہوگا۔(تفسیر طبری النمل تحت الایۃ: ۵۲ ۹ / ۵۳۴ روح البیان النمل تحت الایۃ: ۵۲ ۶ / ۳۵۷-۳۵۸ ملتقطا) {و انجینا: اور ہم نے بچالیا۔} یعنی جو لوگ حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے اور وہ کفر وشرک اور گناہوں سے بچتے اور حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کرنے سے ڈرتے تھے ہم نے ا نہیں عذاب سے بچا لیا۔( مدارک النمل تحت الایۃ: ۵۳ ص۸۵۱ روح البیان النمل تحت الایۃ: ۵۳ ۶ / ۳۵۸ ملتقطا) تفاسیر میں منقول ہے کہ ان لوگوں کی تعداد چار ہزار تھی اوران کی حقیقی تعداد اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے۔