Surah An Naml Ayat 54 (27:54)
The Ant · Juz 19 · Makki
وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ 54
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور لوط کو یاد کروجب اس نے اپنی قوم سے فرمایا: کیا تم بے حیائی کا کام کرتے ہوحالانکہ تم دیکھ رہے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور لوط کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا بے حیائی پر آتے ہو اور تم سوجھ رہے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{و لوطا: اور لوط کو۔} یہاں سے حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی قوم کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ ایت میں ذکر کئے گئے حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کے قول کا ایک معنی یہ ہے کہ کیا تم بدکاری پر اتر ائے ہو حالانکہ تم اس فعل کی قباحت جانتے ہو۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ کیا تم بے حیائی پر اتر ائے ہو اور تم ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہو کراعلانیہ بدفعلی کا ارتکاب کرتے ہو۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ تم اپنے سے پہلے نافرمانی کرنے والوں کی تباہی اور ان کے عذاب کے آثار دیکھتے ہو پھر بھی اس بدعملی میں مبتلا ہو۔( مدارک النمل تحت الایۃ: ۵۴ ص۸۵۱ ملخصا) نوٹ:حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعے کی بعض تفصیلات سورہ اعرافایت نمبر 80تا84 اور سورہ ہودایت نمبر77تا83 میں گزر چکی ہیں ۔