Surah An Naml Ayat 55 (27:55)
The Ant · Juz 19 · Makki
اَىٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِؕ-بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ 55
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا تم عورتوں کو چھوڑ کرمردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو بلکہ تم جاہل لوگ ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا تم مَردوں کے پاس مستی سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم جاہل لوگ ہو۔
Tafseer (Urdu)
{اىنكم: کیا تم۔} حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام نے مزید فرمایا کہ کیا تم عورتوں کو چھوڑ کرمردوں کے پاس شہوت پوری کرنے کیلئے جاتے ہو حالانکہ مردوں کے فطرتی تقاضے کی تسکین کے لئے عورتیں بنائی گئی ہیں مردوں کے لئے مرد اور عورتوں کے لئے عورتیں نہیں بنائی گئیں لہذا یہ فعل حکمت الہی کی مخالفت ہے بلکہ تم جاہل لوگ ہو جو ایسا کام کرتے ہو اور تمہیں اپنے اس فعل کے برے انجام کا اندازہ نہیں ۔( مدارک النمل تحت الایۃ: ۵۵ ص۸۵۱ ملخصا) فطرت سے بغاوت کا نتیجہ: یاد رہے کہ مردوں کے فطرتی تقاضے یعنی شرمگاہ کی شہوت پوری کرنے کادرست ذریعہ عورت ہے اور اس میں بھی کھلی چھٹی نہیں کہ جب اور جس عورت سے دل چاہا اس سے اپنی شہوت پوری کر لی بلکہ اس میں شریعت نے ایک حد مقرر کی ہے اور کچھ اصول و قوانین نافذ فرمائے ہیں جن کے اندر رہتے ہوئے بندہ عورت سے اپنا فطرتی تقاضا پورا کر سکتا ہے اور فی زمانہ شرعی نکاح کے علاوہ عورت سے فائدہ اٹھانے کی کوئی صورت نہیں اور شرعی نکاح کر کے اپنی بیوی سے جائز طریقے کے ساتھ فطرتی تقاضا پورا کرنا انسانی فطرت کے عین مطابق اور بے شمار فوائد کا حامل ہے جیسے انسانوں کی تعداد میں درست طریقے سے اضافہ ہونا خاندانی نظام قائم ہونا معاشرے میں فحاشی اور بے حیائی کا خاتمہ ہو کر ایک پاکیزہ معاشرے کا ترتیب پانا وغیرہ اور جب سے لوگوں نے اپنی فطرت سے بغاوت کرتے ہوئے معاشرے میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینا شروع کیا مردوں کو مردوں اور عورتوں سے بد فعلی کرنے کی طرف منظم طریقے سے مائل کیا فحاشی عریانی اور بے حیائی کو عام کیا عورتوں میں پردے کی ذہنیت کوختم کر کے ازاد روش اور روشن خیالی کی سوچ کو پیدا کیابد فعلی اور زناکاری کو اسان سے اسان تر کیا حتی کہ بچوں کو اس کی باقاعدہ تربیت دینے کانظام قائم کیا تب سے ان لوگوں کا حال جانوروں سے بھی بدتر ہوتا جا رہا ہے اور یہ لوگ انتہائی خطرناک مسائل اور مہلک امراض سے دوچار ہونے کے بعد اب اس بات پر مجبور ہو چکے ہیں کہ وہ فطرت سے بغاوت ختم کر دیں اور اپنے معاشرے میں اس نظام کو رائج کریں جو فطرت کے مطابق ہے۔اے کاش! مسلمان بھی ہوش کے ناخن لیں اور یہ بھی اپنی فطرت سے بغاوت نہ کریں اور جو بغاوت کر چکے وہ اس سے باز اجائیں ۔ اللہ تعالی انہیں ہدایت عطا فرمائےامین۔