Surah An Naml Ayat 62 (27:62)
The Ant · Juz 20 · Makki
اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِؕ-ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِؕ-قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَﭤ 62
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیا وہ بہتر جو مجبور کی فریاد سنتا ہے جب وہ اسے پکارے اوربرائی ٹال دیتا ہے اور تمہیں زمین کا وارث کرتا ہے۔ کیا الله کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے؟تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیا وہ جو لاچار کی سنتا ہے جب اسے پکارے اور دور کردیتا ہے برائی اور تمہیں زمین کے وارث کرتا ہے کیا الله کے ساتھ اور خدا ہے بہت ہی کم دھیان کرتے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{امن یجیب المضطر: یا وہ بہتر جو مجبور کی فریاد سنتا ہے۔ } ایت کے ابتدائی لفظ ’’امن‘‘ کا ایک معنی یہ ہے کہ کیا بت بہتر ہیں یا وہ جو۔۔۔۔۔۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ مشرکین جنہیں اللہ تعالی کا شریک ٹھہراتے ہیں وہ ہر گز بہتر نہیں بلکہ وہ بہتر ہے جو مجبور و لاچار کے پکارنے پر ا س کی فریاد سنتا اورا س کی حاجت روائی فرماتا ہے اوراس سے برائی ٹال دیتا ہے کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اور ا س بات پر قادر ہی نہیں کہ وہ فقر دور کر کے مال و دولت عطا کر دےبیماری ختم کر کے صحت دیدے اور شدت وسختی کی حالت کو اسانی میں بدل دے اور وہ تمہیں پہلے لوگوں کی زمینوں کا وارث بناتا ہے تم ان میں تصرف کرتے ہو اور تمہارے بعد والے تمہاری زمینوں کے وارث ہوں گے اور وہ ان میں تصرف کریں گے۔ کیا اللہ تعالی کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے جو تمام مخلوق کو ایسی عظیم نعمتیں عطا کرے تم اللہ تعالی کی عظمت اورا س کی اسان ترین حجتوں سے بہت ہی کم نصیحت اور عبرت حاصل کرتے ہو اسی لئے تم اوروں کو اللہ تعالی کی عبادت میں شریک کرتے ہو۔( خازن النمل تحت الایۃ : ۶۲ ۳ / ۴۱۷ روح البیان النمل تحت الایۃ: ۶۲ ۶ / ۳۶۲ طبری النمل تحت الایۃ: ۶۲ ۱۰ / ۶ ملتقطا) مجبورو لاچارکی دعا: ا س ایت میں بیان ہوا کہ اللہ تعالی مجبوروں اور لاچاروں کی فریاد سنتا اور ان کی دادرسی فرماتا ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایسی حالت میں اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا کرنے کا ایک طریقہ سکھایا ہے چنانچہ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مجبور کی دعا کے بارے میں فرمایا (کہ وہ یوں دعا مانگے:) ’’اللهم رحمتک ارجو فـلا تکلنی الی نفسی طرفۃ عین و اصلح لی شانی کلہ لا الـہ الا انت‘‘ یعنی اےاللہ ! میں تیری رحمت کا امید وار ہوں تو مجھے انکھ جھپکنے کی دیر بھی میرے نفس کے حوالے نہ کرنا اور میرے سارے کام درست فرما دے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔( مسند ابو داود طیالسی ابو بکرۃ رضی اللہ تعالی عنہ ص۱۱۷ الحدیث: ۸۶۹) مجبور اور لاچار مسلمان تو خاص طور پر یہ دعا مانگے جبکہ عمومی طور پر ہر مسلمان کو یہ مبارک دعا بکثرت مانگنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالی کی رحمت کا اوراپنے نفس کے حوالے نہ ہونے کا ہر مسلمان حاجت مند ہے اور اپنے کام درست ہونے کاہر مسلمان طلبگار ہے۔