Surah An Naml Ayat 64 (27:64)
The Ant · Juz 20 · Makki
اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِؕ-ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِؕ-قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 64
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیا وہ بہتر ہے جو خلق کی ابتداء فرماتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گااور وہ جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی دیتا ہے۔ کیا الله کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ تم فرماؤ: اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیا وہ جو خلق کی ابتدا فرماتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا اور وہ جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی دیتا ہے کیا الله کے ساتھ کوئی اور خدا ہے تم فرماؤ کہ اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{امن یبدؤا الخلق: یا وہ بہتر ہے جو خلق کی ابتدا فرماتا ہے۔} ایت کے ابتدائی لفظ ’’ امن‘‘ کا ایک معنی یہ ہے کہ کیا بت بہتر ہیں یا وہ جو۔۔۔۔۔۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ مشرکین جنہیں اللہ تعالی کا شریک ٹھہراتے ہیں وہ ہر گز بہتر نہیں بلکہ وہ بہتر ہے جو مخلوق کو بغیر کسی مثال کے ابتدا ء پیدا فرماتا ہے پھر مخلوق کی موت کے بعد اسے دوبارہ بنائے گا۔ کفار اگرچہ موت کے بعد زندہ کئے جانے کااقرار اور اعتراف نہیں کرتے تھےاس کے باوجود ان کے سامنے اللہ تعالی کے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہونے والی دلیل اس لئے بیان کی گئی کہ جب دوبارہ زندہ کئے جانے پر ناقابل تردید دلائل قائم ہیں تو ان کا اقرار نہ کرنا کچھ بھی قابل لحاظ نہیں بلکہ جب کفار ابتدائی پیدائش کے قائل ہیں تو انہیں دوبارہ پیدا کئے جانے کا قائل ہونا پڑے گا کیونکہ ابتدائی پیدائش دوبارہ پیدا کئے جانے کی انتہائی مضبوط دلیل ہے تو اب ان کے لئے ا س سے عذر و انکار کی کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔( تفسیرکبیر النمل تحت الایۃ: ۶۴ ۸ / ۵۶۷ جلالین النمل تحت الایۃ: ۶۴ ص۳۲۳ مدارک النمل تحت الایۃ: ۶۴ ص۸۵۳ ملتقطا) مزید ارشاد فرمایا کہ اور وہ جو تمہیں آسمانوں سے بارش کے ذریعے اور زمین سے نباتات کے ذریعے روزی دیتا ہے کیا اللہ تعالی کے ساتھ کوئی اور معبود ہے جس نے یہ کام کئے ہوں ہر گز اس کے ساتھ کوئی اور معبود نہیں ہے۔ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ان سے فرما دیں کہ : اگر تم اپنے اس دعوے میں کہ ’’ اللہ تعالی کے سوا اور بھی معبود ہیں ‘‘ سچے ہو تو بتاؤ جو صفات اور کمالات (اوپر) بیان کئے گئے وہ کس میں ہیں اور جب اللہ تعالی کے سوا ایسا کوئی نہیں تو پھر کسی دوسرے کو کس طرح معبود ٹھہراتے ہو۔‘‘ یہاں ’’هاتوا برهانكم‘‘ فرما کر ان کے عاجز اوربے بس ہونے کا اظہار مقصود ہے۔( جلالین النمل تحت الایۃ: ۶۴ ص۳۲۳ تفسیرابو سعود النمل تحت الایۃ: ۶۴ ۴ / ۲۱۱ ملتقطا)