Surah An Naml Ayat 65 (27:65)
The Ant · Juz 20 · Makki
قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُؕ-وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ 65
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: الله کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب نہیں جانتا اور لوگ نہیں جانتے کہ انہیں کب اُٹھایا جائے گا؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ خود غیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر الله اور انہیں خبر نہیں کہ کب اُٹھائے جائیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{قل: تم فرماؤ۔} اس ایت کا شان نزول یہ ہے کہ مشرکین نے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے قیامت کے آنے کا وقت دریافت کیا تھاان کے بارے میں یہ ایت نازل ہوئی اور ایت کا معنی یہ ہے کہ صرف اللہ تعالی ہی غیب جانتاہے اس کے علاوہ اور کوئی غیب نہیں جانتا اور قیامت قائم ہونے کا وقت بھی اسے ہی معلوم ہے اوراسمانوں میں جتنے فرشتے ہیں اور زمین میں جتنے انسان ہیں وہ نہیں جانتے کہ انہیں دوبارہ کب اٹھایا جائے گا۔( خازن النمل تحت الایۃ: ۶۵ ۳ / ۴۱۷ مدارک النملتحت الایۃ: ۶۵ ص۸۵۳ ملتقطا) غیب کا علم اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہونے سے متعلق اہم کلام: اس ایت میں اور اس کے علاوہ کئی ایات میں غیب کے علم کو اللہ تعالی کے ساتھ خاص کیا گیا ہے اور اللہ تعالی کے علاوہ سے علم غیب کی نفی کی گئی ہے اسی مناسبت سے یہاں ہم علم غیب سے متعلق ایک خلاصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ وہ ایاتاحادیث اور اقوال علماء جن میں اللہ تعالی کے علاوہ دوسروں سے علم غیب کی نفی کی گئی ہے ا ن کا اصل مفہوم واضح ہو اور علم غیب سے متعلق اہل حق کے اصل عقیدے کی وضاحت ہو۔چنانچہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’علم غیب اللہ تعالی کا خاصہ ہونا بے شک حق ہے اور کیوں نہ ہو کہ رب عزوجل فرماتا ہے: ’’ قل لا یعلم من فی السموت و الارض الغیب الا الله-‘‘ تم فرمادو کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں ۔‘‘ اور اس سے مراد وہی علم ذاتی اورعلم محیط (یعنی ہر چیز کا علم) ہے کہ وہی اللہ تعالی کے لیے ثابت اور اس سے مخصوصہیں ۔ علم عطائی کہ دوسرے کا دیا ہوا ہواور علم غیر محیط کہ بعض اشیاء سے مطلع ہو اور بعض سے ناواقف ہو اللہ عزوجل کے لیے ہو ہی نہیں سکتااس سے مخصوص ہونا تو دوسرا درجہ ہے۔ اور اللہ عزوجل کی عطا سے علوم غیب غیر محیط کا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو ملنا بھی قطعا حق ہے اور کیوں نہ ہو کہ رب عزوجل فرماتا ہے: ’’و ما كان الله لیطلعكم على الغیب و لكن الله یجتبی من رسله من یشآء - ‘‘(ال عمران:۱۷۹) اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگوتمہیں غیب کا علم دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے۔ اور فرماتا ہے: ’’علم الغیب فلا یظهر على غیبه احدا(۲۶) الا من ارتضى من رسول‘‘(الجن:۲۶۲۷) اللہ عالم الغیب ہے تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتاسوااپنے پسندیدہ رسولوں کے۔ اور فرماتا ہے: ’’ و ما هو على الغیب بضنین‘‘(التکویر: ۲۴) یہ نبی غیب کے بتانے میں بخیل نہیں ۔ اور فرماتا ہے: ’’ذلك من انبآء الغیب نوحیه الیك-‘‘( یوسف: ۱۰۲) یعنی اے نبی !یہ غیب کی باتیں ہم تم کو مخفی طور پر بتاتے ہیں ۔ حتی کہ مسلمانوں کو فرماتا ہے: ’’یؤمنون بالغیب‘‘(بقرہ: ۳ ) غیب پر ایمان لاتے ہیں ۔ ایمان تصدیق (کا نام) ہے اور تصدیق علم ہے (تو) جس شے کا اصلا علم ہی نہ ہو اس پر ایمان لانا کیونکر ممکن (لہذا ثابت ہوا کہ مسلمانوں کو غیب کا علم حاصل ہے) تفسیر کبیر میں ہے: ’’لایمتنع ان نقول نعلم من الغیب مالنا علیہ دلیل‘‘ یہ کہنا کچھ منع نہیں کہ ہم کو اس غیب کا علم ہے جس میں ہمارے لیے دلیل ہے۔( تفسیر کبیر البقرۃ تحت الایۃ: ۳ ۱ / ۲۷۴) نسیم الریاض میں ہے: ’’لم یکلفنااللہ الایمان بالغیب الا و قد فتح لنا باب غیبہ‘‘ ہمیں اللہ تعالی نے ایمان بالغیب کا جبھی حکم دیا ہے کہ اپنے غیب کا دروازہ ہمارے لیے کھول دیا ہے۔( نسیم الریاض فصل و من ذلک ما اطلع علیہ من الغیوب۔۔۔الخ ص۱۵۱ فتاوی رضویہ ۲۹ / ۴۳۸-۴۳۹ ملخصا) علم غیب سے متعلق تفصیلی معلومات کے لئے اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی کتاب ’’الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبیہ‘‘(علم غیب کے مسئلے کا دلائل کے ساتھ تفصیلی بیان) اور فتاوی رضویہ کی 29ویں جلد میں موجود رسائل ’’ازاحۃ العیب بسیف الغیب‘‘(علم غیب کے مسئلے سے متعلق دلائل اوربدمذہبوں کا رد) اور ’’خالص الاعتقاد‘‘(علم غیب سے متعلق ۱۲۰دلائل پر مشتمل ایک عظیم کتاب) کا مطالعہ فرمائیں ۔