Surah An Naml Ayat 82 (27:82)
The Ant · Juz 20 · Makki
وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْۙ-اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ 82
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب ان پر با ت آپڑے گی توہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو لوگوں سے کلام کرے گااس لیے کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہ کرتے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب بات ان پر آپڑے گی ہم زمین سے ان کے لیے ایک چوپایہ نکالیں گے جو لوگوں سے کلام کرے گا اس لئے کہ لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہ لاتے تھے ۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا وقع القول علیهم: اور جب ان پر با ت اپڑے گی۔} مفسرین نے ’’بات ا پڑنے‘‘ کے مختلف معنی بیان کئے ہیں۔ (1) جب کفارپر عذاب اناواجب ہوجائے گا۔ (2) جب ان پر اللہ تعالی کا غضب (کا وقوع لازم) ہوجائے گا۔ (3)جب ان پر حجت پوری ہو جائے گی۔یہ اس وقت ہو گا جب لوگ نیک کاموں کی دعوت دینا اور برے کاموں سے منع کرنا ترک کردیں گے۔بعض مفسرین کے نزدیک یہ اس وقت ہو گا جب کفار کی اصلاح کی کوئی امید باقی نہ رہے گی اور یہ امید قیامت قائم ہونے سے پہلے اخری زمانے میں ختم ہوگی۔( خازن النمل تحت الایۃ: ۸۲ ۳ / ۴۱۹) ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نسفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’بات سے مراد وہ ہے جس کا کفار سے وعدہ کیا گیا یعنی قیامت قائم ہونا اور عذاب لازم ہونا اور بات اپڑنے سے مراد اس کا حاصل ہونا ہے ۔ایت سے مراد یہ ہے کہ قیامت قریب ہوجائے گی اوراس کی علامتیں ظاہر ہونے لگیں گی اور اس وقت توبہ نفع نہ دے گی۔( مدارک النمل تحت الایۃ: ۸۲ ص۸۵۶) {اخرجنا لهم دآبة من الارض: ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے۔} یعنی جب کفارپر با ت اپڑے گی توہم ان کے لیے زمین سے ایک عجیب و غریب جسم والاجانور نکالیں گے جو لوگوں سے فصیح و بلیغ کلام کرے گا اور کہے گا: ’’ہذا مومن و ہذا کافر‘‘ یعنی یہ مومن ہے اور یہ کافر ہے ۔( مدارک النمل تحت الایۃ: ۸۲ ص۸۵۶) ’’دآبة الارض‘‘ کا تعارف: اس جانور کو ’’دآبة الارض‘‘ کہتے ہیں ۔اس جانورکے بارے میں صرف اتنا جان لینا کافی ہے کہ یہ عجیب و غریب شکل کا جانور ہوگا ۔ کوہ صفا سے برآمد ہو کر تمام شہروں میں بہت جلد پھرے گا ۔فصاحت کے ساتھ کلام کرے گا۔ ہر شخص کی پیشانی پر ایک نشان لگائے گا ایمانداروں کی پیشانی پر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے عصاسے نورانی خط کھینچے گا اورکافر کی پیشانی پر حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کی انگوٹھی سے سیاہ مہر لگائے گا۔ {ان الناس كانوا بایتنا لا یوقنون: اس لیے کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہ کرتے تھے۔} اس ایت کے بارے میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ کلام ’’دابۃ الارض‘‘ کا ہے۔ اس صورت میں ایت کا معنی یہ ہو گا کہ وہ جانور اللہ تعالی کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے لوگوں سے یہ کہے گا کہ لوگ ہماری ایتوں پر یقین نہ کرتے تھے۔دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ اللہ تعالی کا کلام ہے ۔اس صورت میں ایت کا معنی یہ ہو گا کہ ہم یہ جانور ا س لئے نکالیں گے کہ لوگ قرآن پاک پر ایمان نہ لاتے تھے جس میں مرنے کے بعد زندہ کئے جانے اورحساب و عذاب کا بیان ہے ۔