Surah An Naml Ayat 86 (27:86)
The Ant · Juz 20 · Makki
اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًاؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ 86
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے رات بنائی تاکہ وہ اس میں آرام کریں اور دن کوآنکھیں کھولنے والابنایا بیشک اس میں ان لوگوں کیلئے ضرور نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے رات بنائی کہ اس میں آرام کریں اور دن کو بنایا سوجھانے والا بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے کہ ایمان رکھتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{الم یروا: کیا انہوں نے نہ دیکھا۔} اس آیت میں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر دلیل ہے کیونکہ جو دن کی روشنی کو رات کی تاریکی سے اور رات کی تاریکی کو دن کی روشنی سے بدلنے پر قادر ہے وہ مردے کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ نیز لیل و نہار کے انقلاب سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس میں لوگوں کی دنیوی زندگی کا انتظام ہے ۔تو یہ عبث نہیں کیا گیا بلکہ اس زندگانی کے اعمال پر عذاب و ثواب کا ترتب مقتضائے حکمت ہے اور جب دنیا دارالعمل ہے تو ضروری ہے کہ ایک دارآخرت بھی ہو تاکہ وہاں کی زندگانی میں یہاں کے اعمال کی جزا ملے۔( خازن النمل تحت الایۃ: ۸۶ ۳ / ۴۲۰ مدارک النمل تحت الایۃ: ۸۶ ص۸۵۷ ملتقطا) {ان فی ذلك لایت لقوم یؤمنون: اس میں ان لوگوں کیلئے ضرور نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں ۔} یعنی رات کو ارام کے لئے اور د ن کو کام کاج کے لئے بنانے میں ان لوگوں کیلئے ضرور اللہ تعالی کی قدرت کی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں ۔ دن اور رات کے بنانے میں اگرچہ تمام مخلوق کے لئے نشانیاں ہیں لیکن یہاں ایمان والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا گیاکہ صرف ایمان والے ہی ان نشانیوں سے فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔( روح البیان النمل تحت الایۃ: ۸۶ ۶ / ۳۷۳ جلالین النمل تحت الایۃ: ۸۶ ص۳۲۴ تفسیر کبیر النمل تحت الایۃ: ۸۶ ۸ / ۵۷۳ ملتقطا)