Surah An Naml Ayat 87 (27:87)
The Ant · Juz 20 · Makki
وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ 87
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور جوزمین میں ہیں سب گھبرا جائیں گے مگر وہ جنہیں الله چاہے اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جس دن پھونکا جائے گا صُور تو گھبرائے جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں مگر جسے خدا چاہے اور سب اس کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے۔
Tafseer (Urdu)
{و یوم ینفخ فی الصور: اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا۔} یعنی جس دن اللہ تعالی کی اجازت سے حضرت اسرافیل علیہ السلام صور میں پھونکیں گے تواس کی اواز سن کر زمین و اسمان کے تمام جاندار خوف زدہ ہو جائیں گے اور اسی خوف کی وجہ سے مر جائیں گے۔( تفسیر کبیر النمل تحت الایۃ: ۸۷ ۸ / ۵۷۴ جمل النمل تحت الایۃ: ۸۷ ۵ / ۴۷۷ ملتقطا) {الا من شآء الله: مگر وہ جنہیں اللہ چاہے۔} یعنی جنہیں اللہ تعالی چاہے گا اور جن کے دل کو اللہ تعالی سکون عطا فرمائے گا انہیں یہ گھبراہٹ نہ ہوگی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ یہ لوگ شہداء ہیں جو اپنی تلواریں گلوں میں حمائل کئے عرش کے گرد حاضر ہوں گے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : ’’وہ لوگ شہداء ہیں اس لئے کہ وہ اپنے رب عزوجل کے نزدیک زندہ ہیں انہیں ا س وقت گھبراہٹ نہ پہنچے گی ۔ ایک قول یہ ہے کہ صور پھونکنے کے بعد حضرت جبریل حضرت میکائل حضرت اسرافیل اور حضرت عزرائیل علیہم السلام ہی باقی رہیں گے۔( مدارک النمل تحت الایۃ: ۸۷ ص۸۵۷ خازن النمل تحت الایۃ: ۸۷ ۳ / ۴۲۱ ملتقطا) {و كل اتوه دخرین: اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے۔} یعنی قیامت کے دن سب لوگ موت کے بعد زندہ کئے جائیں گے اور حساب کی جگہ میں اللہ تعالی کے حضور عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے۔( مدارک النمل تحت الایۃ: ۸۷ ص۸۵۷ خازن النمل تحت الایۃ: ۸۷ ۳ / ۴۲۱ ملتقطا)