Surah An Naml Ayat 88 (27:88)
The Ant · Juz 20 · Makki
وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِؕ-صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍؕ-اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ 88
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور تُو پہاڑوں کو دیکھے گا انہیں جمے ہوئے خیال کرے گا حالانکہ وہ بادل کے چلنے کی طرح چل رہے ہوں گے۔یہ اس الله کی کاریگری ہے جس نے ہر چیزکو مضبوط کیا بیشک وہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور تو دیکھے گا پہاڑوں کو خیال کرے گا کہ وہ جمے ہوئے ہیں اور وہ چلتے ہوں گے بادل کی چال یہ کام ہے الله کا جس نے حکمت سے بنائی ہر چیز بیشک اسے خبر ہے تمہارے کاموں کی۔
Tafseer (Urdu)
{و ترى الجبال: اور توپہاڑوں کو دیکھے گا۔} اس ایت کا معنی یہ ہے کہ صور پھونکنے کے وقت پہاڑ اپنی بڑی جسامت کی وجہ سے دیکھنے میں تو اپنی جگہ ثابت اورقائم معلوم ہوں گے اور حقیقت میں وہ بادلوں کی طرح انتہائی تیز چلتے ہوں گے جیسا کہ بادل وغیرہ بڑے جسم چلتے توہیں لیکن حرکت کرتے ہوئے معلوم نہیں ہوتے یہاں تک کہ وہ پہاڑ زمین پر گر کر اس کے برابر ہوجائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں گے۔( مدارک النمل تحت الایۃ: ۸۸ ص۸۵۸ خازن النمل تحت الایۃ: ۸۸ ۳ / ۴۲۱ ملتقطا)