Surah An Naml Ayat 92 (27:92)
The Ant · Juz 20 · Makki
وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَۚ-فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ 92
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یہ کہ میں قرآن کی تلاوت کروں تو جس نے ہدایت پائی تواس نے اپنی ذات کیلئے ہی ہدایت پائی اور جو گمراہ ہو تو تم فرمادو کہ میں توصرف ڈر انے والوں میں سے ہوں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یہ کہ قرآن کی تلاوت کروں تو جس نے راہ پائی اس نے اپنے بھلے کو راہ پائی اور جو بہکے تو فرما دو کہ میں تو یہی ڈر سنانے والا ہوں ۔
Tafseer (Urdu)
{و ان اتلوا القران: اور یہ کہ میں قرآن کی تلاوت کروں ۔} یعنی اور مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں مخلوق خدا کو ایمان کی دعوت دینے کے لئے قرآن کی تلاوت کرتا رہوں تاکہ اس کے حقائق مجھ پر ظاہر ہوتے رہیں تو جس نے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت کر کے ہدایت پائی تواس نے اپنی ذات کیلئے ہی ہدایت پائی کیونکہ اس کا نفع اور ثواب وہی پائے گا اور جو گمراہ ہو اور اللہ تعالی کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت نہ کرے اور ایمان نہ لائے تو تم فرمادو کہ میں توصرف اللہ تعالی کے عذاب سے ڈر انے والوں میں سے ہوں اورمیری ذمہ داری اللہ تعالی کا پیغام پہنچا دینا تھا وہ میں نے انجام دے دی۔( جلالین النمل تحت الایۃ: ۹۲ ص۳۲۵ خازن النمل تحت الایۃ: ۹۲ ۳ / ۴۲۲ روح البیان النمل تحت الایۃ: ۹۲ ۶ / ۳۷۸ ملتقطا) {سیریكم ایته: عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا۔} ان نشانیوں سے مراد چاند کا دو ٹکڑے ہونا وغیرہ معجزات اور وہ سزائیں ہیں جو دنیا میں آئیں جیسا کہ بدرمیں کفار کا قتل ہونا قید ہونا اور فرشتوں کا انہیں مارنا۔( مدارک النمل تحت الایۃ: ۹۳ ص۸۵۹ جلالین النمل تحت الایۃ: ۹۳ ص۳۲۵ ملتقطا)