Surah Al Qasas Ayat 21 (28:21)
The Stories · Juz 20 · Makki
فَخَرَ جَ مِنْهَا خَآىٕفًا یَّتَرَقَّبُ٘-قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ 21
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر موسیٰ شہر سے ڈرتے ہوئے انتظار کرتے ہوئے نکلے ۔موسیٰ نے عرض کی: اے میرے رب! مجھے ظالموں سے نجات دیدے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو اس شہر سے نکلا ڈرتا ہوا اس انتظار میں کہ اب کیا ہوتا ہے عرض کی اے میرے رب مجھے ستم گاروں سے بچالے۔
Tafseer (Urdu)
{فخر ج منها خآىفا یترقب:پھر شہر سے ڈرتے ہوئے انتظار کرتے ہوئے نکلے۔} جب حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کواس صورتحال کاعلم ہواتواپ نے اس شہر سے ہجرت کرنے کاارادہ کرلیااور یہاں سے مدین کی طرف رخت سفرباندھاکیونکہ مدین ایساعلاقہ تھاجوفرعون کی مملکت سے باہرتھااوراس کے علاوہ ابادبھی تھااورقریب بھی تھا۔ ایت ’’فخر ج منها خآىفا‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل: اس ایت سے چند مسئلے معلوم ہوئے (1)… خطرناک جگہ سے نکل جانا اور جان بچانے کی تدبیر کرنا انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت ہے۔ (2)… اسباب پر عمل کرنا اور تدبیراختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں ۔ (3)… حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی مار سے قبطی کا مر جانا ایسافعل نہیں تھا جس کی وجہ سے قصاص لازم ہوتا اور اگر وہ صورت ایسی ہوتی جس میں قصاص لازم ہوتاتو حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام شہر سے نکلنے کی بجائے خود اپنے اپ کو قصاص کے لئے پیش فرمادیتے ۔ (4)… کبھی مصیبت بندے کو اچھی طرف لے جاتی ہے۔ جیسے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام بظاہر فرعون کی وجہ سے شہر چھوڑ رہے تھے مگر درحقیقت اللہ تعالی کی طرف جا رہے تھے۔ اپ کا یہ سفر بہت فتح اور کامیابی کا پیش خیمہ ہوا حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت نیک بیوی اور نبوت کا عطا ہونا سب اسی سفر میں اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو مرحمت ہوا۔