Surah Al Qasas Ayat 47 (28:47)
The Stories · Juz 20 · Makki
وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِـعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ 47
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگوں کو ان کے ہاتھوں کے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی وجہ سے (جب جہنم کی) مصیبت پہنچتی تووہ کہتے: اے ہمارے رب!تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان والوں میں سے ہوجاتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر نہ ہوتا کہ کبھی پہنچتی انہیں کوئی مصیبت اس کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو کہتے اے ہمارے رب تو نے کیوں نہ بھیجا ہماری طرف کوئی رسول کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان لاتے۔
Tafseer (Urdu)
{و لو لا: اور اگر یہ بات نہ ہوتی۔} اس ایت کامطلب یہ ہے کہ اگر کسی قوم کی طرف رسول بھیجنے سے پہلے ہی ان کے کفر اور گناہوں کی وجہ سے ان پر اللہ تعالی کی طرف سے کوئی سختی اجاتی یا ان پر اللہ تعالی کا عذاب نازل ہوتا تو وہ لوگ یہ عذر پیش کر سکتے تھے کہ اے اللہ! عزوجل ہم پر سختی اور عذاب نازل کرنے سے پہلے تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا تاکہ ہم تیری دلیلوں کو مانتے اور اپنے رسول پر جو کتاب تو نازل فرماتا ا س کی ایتوں کی پیروی کرتے صرف تیرے ہی معبود ہونے پر ایمان لاتے اور تیرے رسول کی احکامات اور ممنوعات میں تصدیق اورا طاعت کرتے۔ لیکن اللہ تعالی نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس نے عذاب نازل کرنے سے پہلے لوگوں کی طرف اپنے رسول بھیجے تاکہ ان کی تبلیغ اور کوششوں کے بعد جب اپنے کفر اور گناہوں پر قائم رہنے والوں کو ان کے اعمال کی سزا ملے تو وہ مذکورہ بالا عذر پیش نہ کر سکیں ۔ اس کے ہم معنی وہ ایت مبارکہ ہے جس میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’ و لو انا اهلكنهم بعذاب من قبله لقالوا ربنا لو لا ارسلت الینا رسولا فنتبـع ایتك من قبل ان نذل و نخزى‘‘(طہ:۱۳۴) ترجمہکنزالعرفان: اور اگر ہم انہیں رسول کے آنے سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو ضرور کہتے: اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیری ایتوں کی پیروی کرتے