Surah Al Ankabut Ayat 49 (29:49)
The Spider · Juz 21 · Makki
بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَؕ-وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ 49
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبلکہ وہ ان لوگوں کے سینوں میں روشن نشانیاں ہیں جنہیں علم دیا گیا اور ہماری آیتوں کا انکار صرف ظالم لوگ کرتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبلکہ وہ روشن آیتیں ہیں ان کے سینوں میں جن کو علم دیا گیا اور ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر ظالم۔
Tafseer (Urdu)
{بل هو ایت بینت: بلکہ وہ روشن نشانیاں ہیں ۔} اس ایت میں مذکور ضمیر ’’هو‘‘ کا اشارہ قران مجید کی طرف ہے اس صورت میں ایت کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کریم روشن آیتیں ہیں جو علماء اور حفاظ کے سینوں میں محفوظ ہیں ۔ روشن آیت ہونے کے یہ معنی ہیں کہ ان کا اپنی مثل لانے سے عاجز کر دینے والا ہونا ظاہر ہے اور یہ دونوں باتیں قرآن پاک کے ساتھ خاص ہیں اوراس کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں جو معجزہ ہو اور نہ ہی ایسی ہے کہ ہر زمانے میں سینوں میں محفوظ رہی ہو۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے ضمیر ’’هو‘‘ کا مرجع سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو قرار دے کراس آیت کے یہ معنی بیان فرمائے ہیں کہ سرور عالممحمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان روشن نشانیوں والے ہیں جو ان لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہیں جنہیں اہل کتاب میں سے علم دیا گیا کیونکہ وہ اپنی کتابوں میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نعت و صفت پاتے ہیں ۔(مدارک العنکبوت تحت الایۃ: ۴۹ ص۸۹۵ خازن العنکبوت تحت الایۃ: ۴۹ ۳ / ۴۵۳-۴۵۴ ملتقطا) {و ما یجحد بایتنا الا الظلمون: اور ہماری آیتوں کا انکارصرف ظالم لوگ کرتے ہیں ۔} یعنی اللہ تعالی کی آیتوں کا انکارصرف ظالم لوگ کرتے ہیں جیسا کہ یہودی جو کہ معجزات ظاہر ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سچے اور اخری رسول ہونے کو جان اور پہچان چکے لیکن اپ سے عناد کی وجہ سے اپ کے منکر ہوتے ہیں۔ اس ایت مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علماء اور حفاظ کا بڑا ہی درجہ ہے کہ ان کے سینے قران کریم کے گنجینے ہیں۔ جس کاغذ پر قران مجیدلکھا جائے وہ عظمت والا ہے تو جس سینے میں قران پاک ہو وہ بھی عظمت والا ہے۔نیز یہ بھی سمجھ اتا ہے کہ قران عظیم میں کبھی تحریف نہیں ہو سکتی کیونکہ تبدیلی اور تحریف کاغذ میں ہوسکتی ہے جبکہ قران تو خدا نے سینوں میں محفوظ کردیا ہے۔