Surah Ar Rum Ayat 10 (30:10)
The Romans · Juz 21 · Makki
ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓ اٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ 10
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھربرائی کرنے والوں کا انجام سب سے برا ہوا کیونکہ انہوں نے الله کی آیتوں کو جھٹلایا اور وہ ان آیتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر جنہوں نے حد بھر کی برائی کی ان کا انجام یہ ہوا کہ الله کی آیتیں جھٹلانے لگے اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے۔
Tafseer (Urdu)
{ثم كان عاقبة الذین اسآءوا السو اى: پھربرائی کرنے والوں کا انجام سب سے برا ہوا۔} اس ایت کا ایک معنی یہ ہے کہ گناہوں کاارتکاب کرتے رہنے والوں کا انجام یہ ہو اکہ اللہ تعالی نے ان کے دلوں پر مہر لگا دیحتی کہ برے اعمال کی وجہ سے وہ لوگ اللہ تعالی کی ایتوں کو جھٹلانے لگے اور ان ایتوں کا مذاق اڑانے لگ گئے ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے برے اعمال کئے (یعنی کفر کیا تو) ان کا انجام سب سے برا ہوا کہ دنیا میں انہیں (عذاب نازل کر کے) ہلاک کر دیا گیا اور اخرت میں ان کے لئے جہنم ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالی کے رسولوں پر نازل ہونے والی ایتوں کو جھٹلایا اور وہ ان ایتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔(بیضاوی الروم تحت الایۃ: ۱۰ ۴ / ۳۲۹ خازن الروم تحت الایۃ: ۱۰ ۳ / ۴۵۹-۴۶۰ ابوسعود الروم تحت الایۃ: ۱۰ ۴ / ۲۷۱ روح البیان الروم تحت الایۃ: ۱۰ ۷ / ۱۱ ملتقطا) بد عقیدگی اور گناہوں کا بنیادی سبب: اس ایت کی پہلی تفسیر سے معلوم ہو اکہ برے اعمال پر اصرار کی وجہ سے انسان برے عقیدے اختیار کر جاتا ہے۔ لہذا ہر ایک کو برے اعمال سے بچنے کی شدید حاجت ہے تاکہ وہ بد عقیدگی سے محفوظ رہے ۔کفر سے بچنے کیلئے گناہوں سے بچنا چاہیے اور گناہوں سے بچنے کیلئے مشتبہ چیزوں سے بچنا چاہیے۔ اس سلسلے میں یہ حدیث پاک ملاحظہ کریں ۔ چنانچہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے تو جو شبہات سے بچے گا وہ اپنا دین اور اپنی عزت بچالے گا اورجوشبہات میں پڑے گا وہ حرام میں مبتلا ہو جائے گا جس طرح کوئی شخص کسی چراگاہ کی حدود کے گرد چرائے توقریب ہے کہ وہ جانور ا س چراگاہ میں بھی چر لیں ۔ سنو ہر بادشاہ کی چراگاہ کی ایک حد ہوتی ہے اور اللہ تعالی کی مقرر کردہ چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں ۔(مسلم کتاب المساقاۃ باب اخذ الحلال وترک الشبہات ص۸۶۲ الحدیث: ۱۰۷(۱۵۹۹)) اللہ تعالی ہر مسلمان کو برے اعمال کرنے اور بد عقیدگی اختیار کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔