Surah Ar Rum Ayat 41 (30:41)
The Romans · Juz 21 · Makki
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ 41
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariخشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیاان برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ الله انہیں ان کے بعض کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanچمکی خرابی خشکی اور تری میں ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ انہیں ان کے بعض کوتکوں کا مزہ چکھائے کہیں وہ باز آئیں ۔
Tafseer (Urdu)
{ظهر الفساد فی البر و البحر: خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا۔} یعنی شرک اور گناہوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد جیسے قحط سالی بارش کا رک جانا پیداوار کی قلت کھیتیوں کی خرابی تجارتوں کے نقصان آدمیوں اور جانوروں میں موت آتش زدگی کی کثرت غرق اور ہر شے میں بے برکتی طرح طرح کی بیماریاں بے سکونی وغیرہ ظاہر ہو گئی اور ان پریشانیوں میں مبتلا ہونا اس لئے ہے تاکہ اللہ تعالی انہیں اخرت سے پہلے دنیا میں ہی ان کے بعض برے کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ کفر اور گناہوں سے باز اجائیں اوران سے توبہ کر لیں ۔( مدارک الروم تحت الایۃ: ۴۱ ص۹۱۰ جلالین الروم تحت الایۃ: ۴۱ ص۳۴۴ ملتقطا) پریشانیوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہونے کا سبب: اس ایت سے معلوم ہو اکہ گناہوں کی وجہ سے لوگ ہزاروں قسم کی پریشانیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے کہ کسی قوم میں اعلانیہ بے حیائی پھیل جانے کی وجہ سے ان میں طاعون اور مختلف امراض عام ہو جاتے ہیں ۔ناپ تول میں کمی کرنے کی وجہ سے قحط اتا اور ظالم حاکم مقرر ہوتے ہیں ۔زکوۃ نہ دینے کی وجہ سے بارش رکتی ہے۔ اللہ تعالی اور اس کے رسول کا عہد توڑنے کی وجہ سے دشمن مسلط ہو جاتا ہے۔لوگوں کے مالوں پر جبری قبضہ کرنے کی وجہ سے اور اللہ تعالی کی کتاب کے مطابق حکمرانوں کے فیصلے نہ کرنے کی وجہ سے لوگوں کے درمیان قتل و غارت گری ہوتی ہے اور سود خوری کی وجہ سے زلزلے اتے اور شکلیں بگڑ جاتی ہیں ۔( روح البیان الروم تحت الایۃ: ۴۱ ۷ / ۴۶-۴۷ ملخصا) ایت اور احادیث کے خلاصے کو سامنے رکھتے ہوئے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ موجودہ صورت حال پر غور کر لے کہ فی زمانہ بے حیائی عام ہوناناپ تول میں کمی کرنا لوگوں کے اموال پر جبری قبضے کرنازکوۃ نہ دیناجوا اورسود خوری وغیرہ الغرض وہ کونسا گناہ ہے جو ہم میں عام نہیں اور شائد انہی اعمال کا نتیجہ ہے کہ اج کل لوگ ایڈز کینسر اور دیگر جان لیوا امراض میں مبتلا ہیں ظالم حکمران ان پرمقرر ہیں بارش رک جانے یا حد سے زیادہ انے کی افت کا یہ شکار ہیں دشمن ان پر مسلط ہوتے جارہے ہیں قتل و غارت گری ان میں عام ہو چکی ہے زلزلوں طوفانوں اور سیلاب کی مصیبتوں میں یہ پھنسے ہوئے ہیں تجارتی خسارے اور ہر چیز میں بے برکتی کا رونا یہ رو رہے ہیں ۔ اللہ تعالی ہمیں عقل سلیم عطا کرے اور اپنی بگڑی عملی حالت سدھارنے کی توفیق عطافرمائے۔ یہاں بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کافروں کے ممالک جہاں کفر و شرک اور زنا و گناہ سب کچھ عام ہے وہاں فساد کیوں نہیں ہے تو اس کے دو جواب ہیں اول یہ کہ کفار کو دنیا میں کئی اعتبار سے مہلت ملی ہوئی ہے لہذا وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور دوسرا جواب یہ ہے کہ فساد اور بربادی صرف مال کے اعتبار سے نہیں ہوتی بلکہ بیماریوں اور ذہنی پریشانیوں بلکہ اور بھی ہزاروں اعتبار سے بھی ہوتی ہے اب ذرا کفارکے ممالک میں جنم لینے والی اور پھیلنے والی نئی نئی بیماریوں کی معلومات جمع کرلیں یونہی یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ پاگل خانے ذہنی مریض دماغی سکون کی دواوں کااستعمال دماغی امراض کے معا لجین ذہنی مریضوں کے ادارے اور نفسیاتی ہسپتال بھی انہی کفار کے ممالک میں ہیں اور اسی طرح دنیا میں سب سے زیادہ طلاقیں ناجائز اولادیں بوڑھے والدین کو اولڈ ہومز میں پھینک کر بھول جانے کے واقعات یونہی دنیا میں سب سے زیادہ خودکشیاں بھی انہی ممالک میں ہیں جو ظاہرا تو بڑے خوشحال نظر اتے ہیں لیکن اندر سے گل سڑ رہے ہیں ۔