Surah Ar Rum Ayat 44 (30:44)
The Romans · Juz 21 · Makki
مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗۚ-وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَ 44
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجس نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پرہے اور جو اچھا کام کریں وہ اپنے ہی کیلئے تیاری کر رہے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجو کفر کرے اس کے کفر کا وبال اُسی پر اور جو اچھا کام کریں وہ اپنے ہی لئے تیاری کر رہے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{من كفر فعلیه كفره: جس نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پرہے۔} یعنی جس نے دنیا میں اللہ تعالی کے ساتھ کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پرہے کہ اس کے کفر سے دوسرے نہ پکڑے جائیں گے بلکہ خود وہی پکڑا جائے گا اور جو اچھا کام کریں وہ اپنے فائدے ہی کیلئے تیاری کر رہے ہیں کہ جنت کے درجات میں راحت و آرام پائیں گے۔( روح البیان الروم تحت الایۃ: ۴۳ ۷ / ۴۷ ملخصا) ہمارے اعمال کا فائدہ یا نقصان ہمیں ہی ہو گا: اس ایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی ہمارے اعمال سے بے نیاز ہے اور ہم جو اچھا یا برا عمل کریں گے ا س کا فائدہ یا نقصان ہمیں ہی ہو گااسی چیز کو بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ ان احسنتم احسنتم لانفسكم- و ان اساتم فلها‘‘(بنی اسرائیل:۷) ترجمہ کنزالعرفان: اگر تم بھلائی کرو گے تو تم اپنے لئے ہی بہتر کرو گے اور اگر تم برا کرو گے تو تمہاری جانوں کیلئے ہی ہوگا۔ اورارشاد فرماتا ہے: ’’ من عمل صالحا فلنفسه و من اسآء فعلیها-و ما ربك بظلام للعبید‘‘(حم السجدہ:۴۶) ترجمہ کنزالعرفان: جو نیکی کرتا ہے وہ اپنی ذات کیلئے ہی کرتا ہے اور جو برائی کرتا ہے تو اپنے خلاف ہی وہ برا عمل کرتا ہے اور تمہارا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ اور جس طرح اخرت میں اچھے عمل کا فائدہ اور برے عمل کا نقصان عمل کرنے والے کوہو گا اسی طرح قبر میں بھی اچھے برے اعمال کا فائدہ اور نقصان اسے ہی ہو گا ۔جس کے عمل اچھے ہوں گے تو وہ اسے قبر میں انسیت پہنچائیں گے اس کی قبر وسیع اور منور کر دیں گے اور اسے قبر میں دہشتوں اور مصیبتوں سے محفوظ رکھیں گے اور جس کے عمل برے ہوں گے تو وہ اسے قبر میں دہشت زدہ کریں گےاس کی قبر کو تنگ اور اندھیری کر دیں گے اور اسے دہشتوں مصیبتوں اور عذاب سے نہ بچائیں گے۔ لہذا ہرایک کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرے تاکہ یہ قبر کی طویل اور حشر کی نہ ختم ہونے والی زندگی میں اس کے کام ائیں اور وہ خود کوکفرگمراہی بد مذہبی اور دیگر گناہوں سے بچائے تاکہ قبر و حشر میں اپنے برے اعمال کے نقصان سے محفوظ رہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہوسکے کرلے اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے اندھیرا گھر اکیلی جان دم گھٹتا دل اکتاتا خدا کو یاد کر پیارے وہ ساعت آنے والی ہے