Surah Ar Rum Ayat 45 (30:45)
The Romans · Juz 21 · Makki
لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتا کہ الله ان لوگوں کو اپنے فضل سے جزا عطا فرمائے جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے ۔بیشک وہ کافروں کوپسندنہیں کرتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتا کہ صلہ دے اُنہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اپنے فضل سے بے شک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔
Tafseer (Urdu)
{لیجزی: تا کہ اللہ جزا عطا فرمائے۔} اس ایت کا ایک معنی یہ ہے کہ جولوگ اچھا کام اور نیک عمل کر رہے ہیں وہ اپنے ہی فائدے کے لئے کر رہے ہیں تاکہ اللہ تعالی اپنے فضل سے نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں کو جزا عطا فرمائے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ قیامت کے دن لوگو ں کو اس لئے الگ الگ کر دیا جائے گا تاکہ اللہ تعالی اپنے فضل سے ان لوگوں کو صلہ عطا فرمائے جنہوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال کئے۔بے شک اللہ تعالی کافروں کوپسندنہیں کرتا بلکہ وہ کافر سے ناراض ہے اور اسے سخت سزا دے گا۔( قرطبی الروم تحت الایۃ: ۴۵ ۱۴ / ۳۲ الجزء الرابع عشر جلالین الروم تحت الایۃ: ۴۵ ص۳۴۴ روح البیان الروم تحت الایۃ: ۴۵ ۷ / ۴۸ ملتقطا) نیک اعما ل کی جز املنا محض اللہ تعالی کا فضل ہے: اس سے معلوم ہوا کہ بندے کو ا س کے نیک اعمال کا صلہ دینا اور نیک اعمال کے بدلے اسے ثواب اور جزا دینا اللہ تعالی پر لازم نہیں اور وہ نیک لوگوں کو ان کی نیکیوں کا جو بھی اجر عطا فرمائے گا وہ صرف اس کا فضل و کرم ہے۔