Surah Ar Rum Ayat 57 (30:57)
The Romans · Juz 21 · Makki
فَیَوْمَىٕذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ 57
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو ا س دن ظالموں کوان کا معافی مانگنا نفع نہ دے گا اور نہ ان سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو اُ س دن ظالموں کو نفع نہ دے گی اُن کی معذرت اور نہ ان سے کوئی راضی کرنا مانگے۔
Tafseer (Urdu)
{فیومىذ: تو ا س دن۔} یعنی قیامت کے دن ظالموں کوان کا معافی مانگنا کوئی نفع نہ دے گا اور نہ ان سے یہ کہا جائے گا کہ توبہ کرکے اپنے رب عزوجل کو راضی کرلو جیسا کہ دنیا میں ان سے توبہ طلب کی جاتی تھی کیونکہ اس وقت توبہ اور طاعت مقبول نہیں ۔( روح البیان الروم تحت الایۃ: ۵۷ ۷ / ۵۹) گناہگار مسلمانوں کے لئے نصیحت : اس ایت میں ان گناہگار مسلمانوں کے لئے بھی نصیحت ہے کہ جو اپنی زندگی کے قیمتی لمحات گناہوں میں صرف کر رہے ہیں اور ان سے توبہ کی طرف ان کا دل مائل نہیں ہو رہاانہیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اگر توبہ کئے بغیر مر گئے تو اخرت میں گناہوں پر پکڑ بھی ہو سکتی ہے اور توبہ کا وقت دنیا کی زندگی ہے اخرت میں توبہ کرنا کچھ کام نہ دے گا لہذاانہیں چاہئے کہ اپنی زندگی کو غنیمت جان کر موت سے پہلے اپنے اعمال کا محاسبہ کر لیں اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں گناہوں سے سچی توبہ کر کے نیک اعمال میں مصروف ہو جائیں ۔کثیر احادیث میں اس کی بہت ترغیب دی گئی ہے یہاں ان میں سے 3احادیث ملاحظہ ہوں چنانچہ (1)… حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو! مرنے سے پہلے اللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ کر لو اور مشغولیت سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرلو۔( ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا باب فی فرض الجمعۃ ۲ / ۵ الحدیث: ۱۰۸۱) (2)…حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایک شخص سے نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔ (1)بڑھاپے سے پہلے جوانی کو۔(2) بیماری سے پہلے تندرستی کو۔(3) فقیری سے پہلے مالداری کو۔ (4) مشغولیت سے پہلے فرصت کو۔ (5) اور اپنی موت سے پہلے زندگی کو۔(مستدرک کتاب الرقاق نعمتان مغبون فیہما کثیر من الناس۔۔۔ الخ ۵ / ۴۳۵ الحدیث: ۷۹۱۶) (3)… حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’عقلمند وہ شخص ہے جو اپنا محاسبہ کرے اورموت کے بعد کے لئے عمل کرے جبکہ عاجز وہ ہے جو اپنے اپ کو خواہشات کے پیچھے لگا دے اور اللہ تعالی سے امید رکھے۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں مذکور الفاظ ’’من دان نفسہ‘‘ کا مطلب قیامت کے حساب سے پہلے (دنیا ہی میں ) نفس کا محاسبہ کرنا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اپنے نفسوں کا محاسبہ کرو ا س سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور بڑی پیشی کے لئے تیار ہو جاو۔قیامت کے دن اس ادمی کا حساب اسان ہو گا جس نے دنیا ہی میں اپنا حساب کر لیا۔ حضرت میمون بن مہران رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ بندہ اس وقت تک پرہیز گار شمار نہیں ہوتا جب تک اپنے نفس کا ایسے محاسبہ نہ کرے جیسے اپنے شریک کا کرتا ہے کہ اس نے کہاں سے کھایا اور کہاں سے پہنا۔( ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ۔۔۔ الخ ۲۵-باب ۴ / ۲۰۷ الحدیث: ۲۴۶۷) اللہ تعالی ہر مسلمان کواپنے اعمال کا محاسبہ کرنے گناہوں سے بچنے توبہ کرنے اور نیک اعمال میں مصروف ہونے کی توفیق عطا فرمائےامین۔