Surah Ar Rum Ayat 58 (30:58)
The Romans · Juz 21 · Makki
وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍؕ-وَ لَىٕنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ 58
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان فرمائی اور اگر تم ان کے پاس کوئی نشانی لاؤ تو ضرور کافر کہیں گے تم تو نہیں مگر باطل پر۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بے شک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان فرمائی اور اگر تم ان کے پاس کوئی نشانی لاؤ تو ضرور کافر کہیں گے تم تو نہیں مگر باطل پر۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد ضربنا للناس فی هذا القران من كل مثل: اور بیشک ہم نے لوگوں کے لئے اس قران میں ہر قسم کی مثال بیان فرمائی۔} یعنی ہم نے ا س قران میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثال بیان فرما دی جس کی انہیں دین اور دنیا میں حاجت ہے اور اس میں غورو فکر اور تدبر کرنے والا ہدایت اور نصیحت حاصل کر سکتا ہے اور مثالیں اس لئے بیان فرمائی گئیں کہ کافروں کو تنبیہ ہو اور انہیں عذاب سے ڈرانا اپنے کمال کو پہنچے لیکن انہوں نے اپنی سیاہ باطنی اور سخت دلی کے باعث کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ جب کوئی آیت قرآن آئی اس کو جھٹلا دیا اور اس کا انکار کر دیا۔( روح البیان الروم تحت الایۃ: ۵۸ ۷ / ۶۰ مدارک الروم تحت الایۃ: ۵۸ ص۹۱۳-۹۱۴ ملتقطا) گناہ کے تین درجے: صوفیاء فرماتے ہیں کہ گناہ کے تین درجے ہیں ۔ ادنی درجہ یہ کہ مجرم اپنے اپ کو گنہگار جانتا ہوا گناہ کرے اور سمجھانے پر کم از کم شرمندہ ہو جائے اس کی معافی ان شاء اللہ ہو جائے گی۔ اس سے اوپر درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے گناہ سے لاپروا ہو جائے۔ گناہ کرے نادم نہ ہو کبھی یہ سوچے بھی نہیں کہ میں کیا کر رہا ہوں ۔ اس بیماری سے شفاء بمشکل ہوتی ہے ۔اس کے اوپر یہ کہ اپنے گناہوں کو اچھا سمجھے دوسروں کی نیکیوں کو برا جانے گناہوں پر فخرکرے اور نیکیوں پر طعنہ کرے یہ دل کی مہر کا باعث ہے ۔ یہاں ایت میں کفار کا یہی تیسرا درجہ بیان ہوا ہے۔