Surah Luqman Ayat 22 (31:22)
Luqman · Juz 21 · Makki
وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰىؕ-وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو جو اپنا منہ الله کی طرف جھکادے اور وہ نیک ہو تو بیشک اس نے مضبوط سہارا تھام لیا اور سب کاموں کا انجام الله ہی کی طرف ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جو اپنا منہ الله کی طرف جھکادے اور ہو نیکوکار تو بیشک اُس نے مضبوط گرہ تھامی اور الله ہی کی طرف ہے سب کاموں کی انتہا۔
Tafseer (Urdu)
{و من یسلم وجهه الى الله: تو جو اپنا منہ اللہ کی طرف جھکادے۔} یعنی جو اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کی رضا کے لئے ا س کا دین قبول کرے اللہ تعالی کی عبادت میں مشغول ہو اپنے کام اسی کے سپرد کرے اور اسی پر بھروسہ رکھے اور وہ نیک اعمال کرنے والا بھی ہو تو بیشک اس نے مضبوط سہارا تھام لیا اور ا س کے ذریعے وہ اعلی مراتب پر فائز ہو جائے گا اور سب کاموں کی انتہا اللہ تعالی ہی کی طرف ہے تو وہ ایسے شخص کو اچھی جزا دے گا۔(خازن لقمان تحت الایۃ: ۲۲ ۳ / ۴۷۲ روح البیان لقمان تحت الایۃ: ۲۲ ۷ / ۹۲ ملتقطا) اخرت میں اچھی جزا پانے کے لئے ضروری عمل: اس ایت سے معلوم ہوا کہ اخرت میں اچھی جزا پانے کے لئے صحیح ایمان اور درست نیک اعمال دونوں کا ہونا ضروری ہےیہی چیز قران مجید میں اور مقامات پر بھی بیان کی گئی ہے چنانچہ ایک مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’بلى-من اسلم وجهه لله و هو محسن فله اجره عند ربه ۪-و لا خوف علیهم و لا هم یحزنون‘‘(بقرہ:۱۱۲) ترجمہ کنزالعرفان: ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا دیا اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو تو اس کااجر اس کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور ارشاد فرماتا ہے: ’’ و اما من امن و عمل صالحا فله جزاء اﰳلحسنى- و سنقول له من امرنا یسرا‘‘(کہف:۸۸) ترجمہ کنزالعرفان: اور بہر حال جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا تو اس کا بدلہ بھلائی ہے اور عنقریب ہم اس کو آسان کام کہیں گے۔ اور ارشاد فرماتا ہے: ’’من امن بالله و الیوم الاخر و اقام الصلوة و اتى الزكوة و لم یخش الا الله فعسى اولىك ان یكونوا من المهتدین‘‘(توبہ:۱۸) ترجمہ کنزالعرفان: جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور نما ز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تو عنقریب یہ لوگ ہدایت والوں میں سے ہوں گے۔ چنانچہ جو ایمان والا نہیں اس کا کوئی بھی عمل صالح نہیں اگرچہ وہ ظاہری اعتبار سے کیسے ہی اچھے عمل کر رہا ہو اور جو صحیح ایمان لانے کے بعد نیک عمل نہیں کر رہا وہ اپنے اپ کو خطرے پر پیش کررہاہے کیونکہ برے اعمال اللہ تعالی کی ناراضی کا سبب ہیں اور جس سے اللہ تعالی ناراض ہو گیا اور ا س پر اللہ تعالی نے رحم نہ کیا تواسے اس کے برے اعمال کے حساب سے ایک عرصے تک کے لئے جہنم میں داخل کر دیا جائے گا۔ لہذا ضروری ہے کہ پہلے صحیح ایمان لایا جائے اورپھر نیک اعمال کئے جائیں تاکہ اللہ تعالی کی رحمت سے اخرت میں اچھی جزا نصیب ہو۔