Surah Luqman Ayat 27 (31:27)
Luqman · Juz 21 · Makki
وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ 27
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب قلمیں بن جاتے اور سمندر (ان کی سیاہی، پھر) اس کے بعد اس (پہلی سیاہی) کو سات سمندر مزید بڑھادیتے تو بھی الله کی باتیں ختم نہ ہوتیں بیشک الله عزت والا، حکمت والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر زمین میں جتنے پیڑ ہیں سب قلمیں ہوجائیں اور سمندر اس کی سیاہی ہو اس کے پیچھے سات سمندر اور تو الله کی باتیں ختم نہ ہوں گی بیشک الله عزت و حکمت والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و لو ان ما فی الارض من شجرة اقلام: اور زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب قلمیں بن جاتے} اس ایت میں اللہ تعالی نے ایک مثال کے ذریعے اپنی عظمت کا بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ساری زمین میں موجود تمام درختوں کی قلمیں بنادی جائیں جو کھربوں سے بھی کھربوں گنا زیادہ ہوں گی اور لکھنے کے لئے سمندر بلکہ سات سمندروں کو سیاہی بنا لیاجائے اور ان قلموں اور سیاہی کے ذریعے اللہ تعالی کی عظمت مثلا علم قدرت صفات کو لکھا جائے توسارے قلم اور سمندر ختم ہوجائیں لیکن عظمت الہی کے کلمات ختم نہ ہوں کیونکہ سمندر سات ہوں یا کروڑوں جتنے بھی ہوں بہر حال وہ محدود ہیں اور ان کی کوئی نہ کوئی انتہاء ہے جبکہ اللہ تعالی کی عظمت کی کوئی انتہاء نہیں تو متناہی چیز غیر متناہی کا احاطہ کر ہی نہیں سکتی۔ اس ایت کے شان نزول کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ان میں سے دوقول درج ذیل ہیں ۔ (1)…جب تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو یہودیوں کے علماء نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: ہم نے سنا ہے کہ آپ فرماتے ہیں : ’’و ما اوتیتم من العلم الا قلیلا‘‘ یعنی تمہیں تھوڑا علم دیا گیا ہے۔‘‘ تو اس سے آپ کی مراد ہم لوگ ہیں یا صرف اپ کی قوم ارشاد فرمایا’’ سب مراد ہیں ۔انہوں نے کہا: کیا آپ کی کتاب میں یہ نہیں ہے کہ ہمیں توریت دی گئی ہے اور اس میں ہر چیز کا علم ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ ہر چیز کا علم بھی اللہ تعالی کے علم کے سامنے قلیل ہے اور تمہیں تو اللہ تعالی نے اتنا علم دیا ہے کہ اگر اس پر عمل کرو تو نفع پاؤ گے۔ انہوں نے کہا :آپ کیسے یہ خیال فرماتے ہیں حالانکہ آپ کا قول تو یہ ہے کہ جسے حکمت دی گئی اسے خیر کثیر دی گئی تو قلیل علم اور کثیر خیر کس طرح جمع ہو سکتے ہیں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ اس صورت یہ آیت مدنی ہوگی ۔ (2)…یہودیوں نے قریش سے کہا تھا کہ مکہ میں جا کر رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اس طرح کا کلام کریں۔(مدارک لقمان تحت الایۃ: ۲۷ ص۹۲۱ جلالین لقمان تحت الایۃ: ۲۷ ص۳۴۸ خازن لقمان تحت الایۃ: ۲۷ ۳ / ۴۷۳ ملتقطا)