Surah Luqman Ayat 28 (31:28)
Luqman · Juz 21 · Makki
مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ 28
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم سب کا پیدا کرنا اور قیامت میں اٹھاناایسا ہی ہے جیسا ایک جان کا،بیشک الله سننے والا، دیکھنے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم سب کا پیدا کرنا اور قیامت میں اٹھانا ایسا ہی ہے جیسا ایک جان کا بیشک الله سنتا دیکھتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ما خلقكم و لا بعثكم الا كنفس واحدة: تم سب کا پیدا کرنا اور قیامت میں اٹھانا ایسا ہی ہے جیسا ایک جان کا۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی نے اپنی قدرت اور علم کے کمال کو بیان فرمایا اور اب یہاں سے قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے سے متعلق کفارمکہ کو سمجھایا جارہا ہےچنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے اہل مکہ! تم سب کوپیدا کرنا اور قیامت کے دن دوبارہ زندہ کر کے اٹھانا اللہ تعالی کیلئے ایک جان کو پیدا کرنے کے برابر ہےیہ اللہ تعالی پر کچھ دشوار نہیں کیونکہ اس کی قدرت تو یہاں تک ہے کہ اگر وہ چاہے توایک لفظ ’’کن‘‘ فرما کر سب کو پیدا کر دے ۔ بیشک اللہ تعالی تمہارے اقوال کو سننے والا اور تمہارے افعال کو دیکھنے والا ہے تو وہ تمہیں تمہاری باتوں اور عملوں کا بدلہ دے گا۔( روح البیان لقمان تحت الایۃ: ۲۸ ۷ / ۹۶ خازن لقمان تحت الایۃ: ۲۸ ۳ / ۴۷۳ مدارک لقمان تحت الایۃ: ۲۸ ص۹۲۱ ملتقطا) اس ایت کاشان نزول یہ ہے کہ ابی بن خلف اور کفار مکہ کی ایک جماعت نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر کہا:بے شک اللہ تعالی نے مختلف مراحل سے گزار کر ہمیں پیدا فرمایا جیسے پہلے ہم نطفہ کی شکل میں تھےپھر جما ہوا خون بنےپھر گوشت کا ٹکڑا بنے پھر ہماری ہڈیاں اور اعضا وغیرہ بنے۔تخلیق کے ان مراحل کو جاننے کے باوجود اپ یہ کہتے ہیں کہ ہم سب کوایک ہی گھڑی میں نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھایا جائے گا!اس پر یہ ایت نازل ہوئی(صاوی لقمان تحت الایۃ: ۲۸ ۵ / ۱۶۰۵ ملخصا) اور اس میں گویا کہ فرمایا گیا: یہاں بہت اہستگی سے پیدا فرمانا دوسری حکمتوں سے ہے نہ کہ رب تعالی کی مجبوری کی بناء پر اور وہاں ایک دم پیدا فرمانے میں اپنی قدرت کاملہ کا اظہار ہو گا لہذا غائب کو حاضر پر قیاس نہ کرو۔