Surah Luqman Ayat 29 (31:29)
Luqman · Juz 21 · Makki
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ٘-كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ 29
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے سننے والے! کیا تو نے نہ دیکھا کہ الله رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگادیا ،ہر ایک ایک مقررہ مدت تک چلتا ہے اوریہ کہ الله تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے سننے والے کیا تو نے نہ دیکھا کہ الله رات لاتا ہے دن کے حصے میں اور دن کرتا ہے رات کے حصے میں اور اس نے سورج اور چاند کام میں لگائے ہر ایک ایک مقرر میعاد تک چلتا ہے اور یہ کہ الله تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
Tafseer (Urdu)
{الم تر: اے سننے والے! کیا تو نے نہ دیکھا۔} یہاں سے ایک بار پھر اللہ تعالی کی وحدانیت پر دلائل بیان کئے جا رہے ہیں چنانچہ اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے سننے والے! کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ تعالی اپنی قدرت اور حکمت سے ایک موسم میں رات کے کچھ حصے کو کم کر کے دن میں داخل کردیتا ہے اور ایک موسم میں دن کے کچھ حصے کو بڑھا کر رات میں داخل کردیتا ہے اور جو وقت ایک میں سے کم کرتا ہے اسے دوسرے میں بڑھا دیتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو بندوں کے نفع کے لئے کام میں لگادیا ہے اوران میں سے ہر ایک مقررہ مدت تک اپنی مخصوص رفتار سے چلتارہے گا اورکیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ تعالی تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔یہ جو عجائبات بیان ہوئے ان پر صرف اللہ تعالی ہی قادر ہے ا س لئے صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا جن کو لوگ پوجتے ہیں وہ سب باطل اور فنا ہونے والے ہیں لہذا ان میں سے کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالی کی یہ قدرت و عظمت اس لئے ہے کہ اللہ تعالی ہی اپنی ذات و صفات میں بلند ی والا اور بڑائی والا ہے۔( روح البیان لقمان تحت الایۃ: ۲۹-۳۰ ۷ / ۹۶-۹۸ خازن لقمان تحت الایۃ: ۲۹-۳۰ ۳ / ۴۷۳ مدارک لقمان تحت الایۃ: ۲۹-۳۰ ص۹۲۱ جلالین لقمان تحت الایۃ: ۲۹-۳۰ ص۳۴۸ ملتقطا) یاد رہے کہ ایت نمبر29میں جو سورج اور چاند کے بارے میں فرمایا گیا کہ ’’ ہر ایک ایک مقررہ مدت تک چلتا ہے‘‘اس میں مقررہ مدت سے مراد قیامت کا دن ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ دونوں اپنے اپنے معین اوقات تک چلتے ہیں جیسے سورج سال کے آخر تک اور چاند مہینے کے اخر تک چلتا ہے۔( مدارک لقمان تحت الایۃ: ۲۹ ص۹۲۱) نیزخیال رہے کہ اگرچہ بعض کفار انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو پوجتے ہیں مگر ان بزرگوں کو باطل نہیں کہا جاسکتا وہ بالکل حق ہیں البتہ ان کی عبادت کرنا باطل ہے۔یہاں اللہ تعالی نے لفظ ’’ما‘‘ ذکر فرمایا ہے اوریہ لفظ عربی زبان میں بے عقل چیزوں کے لئے اتا ہے تو ایت کا مطلب یہ ہوا کہ جن پتھروں اور درختوں وغیرہ بے جان چیزوں کو لوگ پوجتے ہیں وہ باطل ہیں ۔ یا یہاں یہ لفظ مصدر کے معنی میں ہے یعنی تمہارااللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کو پوجنا باطل اور جھوٹ ہے۔