Surah As Sajdah Ayat 22 (32:22)
The Prostration · Juz 21 · Makki
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَاؕ-اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جائے پھر (بھی) وہ ان سے منہ پھیر لے۔ بیشک ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی گئی پھر اس نے اُن سے منہ پھیر لیا بیشک ہم مجرموں سے بدلہ لینے والے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و من اظلم: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون۔} جھٹلانے والوں کا تفصیلی حال بیان کرنے کے بعد یہاں ان کا اجمالی حال بیان کیا جارہا ہے کہ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اس کے رب عزوجل کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جائے پھر بھی وہ ان سے منہ پھیر لے اور آیات میں غور و فکر نہ کرے اور ان کی وضاحت و ارشاد سے فائدہ نہ اٹھائے اور ایمان قبول نہ کرے بیشک ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں تو اس شخص کا حال کیا ہو گا جو سب سے بڑھ کر ظالم اور سب سے بڑ امجرم ہے۔ (صاوی السجدۃ تحت الایۃ: ۲۲ ۵ / ۱۶۱۶ مدارک السجدۃ تحت الایۃ: ۲۲ ص۹۲۷-۹۲۸) مجرم کون حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےسرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جس نے یہ تین کام کئے وہ مجرم ہے ۔(1) جس نے ناحق جھنڈا باندھا۔ (یعنی ایسے شخص کے ساتھ لڑائی کرنے کے لئے جھنڈا باندھا جس کے ساتھ لڑنا اس کے لئے جائز نہ تھا)(2)جس نے والدین کی نافرمانی کی ۔(3)جو ظالم کے ساتھ ا س لئے چلاتاکہ اس کی مدد کرے تو وہ مجرم ہے اور اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’انا من المجرمین منتقمون‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: بیشک ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں ۔( معجم الکبیر معاذ بن جبل الانصاری عقبی بدری۔۔۔ الخ جنادۃ بن ابی امیۃ عن معاذ ۲۰ / ۶۱ الحدیث: ۱۱۲ کنز العمال کتاب المواعظ والرقائق ۔۔۔ الخ قسم الاقوال الباب الثانی الفصل الثالث ۸ / ۱۲ الجزء السادس عشر الحدیث:۴۳۷۷۴) لہذا جو شخص بھی ان تین جرموں میں سے کسی کا مرتکب ہے تو اسے چاہئے کہ اپنے جرم سے با زا جائے ورنہ یاد رکھے کہ اللہ تعالی مجرموں سے انتقام لینے والا ہے۔