Surah As Sajdah Ayat 5 (32:5)
The Prostration · Juz 21 · Makki
یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ آسمان سے زمین تک (ہر) کام کی تدبیر فرماتا ہے پھر (ہر کام) اُس دن میں اسی کی طرف رجوع کرے گا جس کی مقدارتمہاری گنتی سے ہزارسال ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکام کی تدبیر فرماتا ہے آسمان سے زمین تک پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا اس دن کہ جس کی مقدار ہزار برس ہے تمہاری گنتی میں ۔
Tafseer (Urdu)
{یدبر الامر من السمآء الى الارض: وہ آسمان سے زمین تک (ہر) کام کی تدبیر فرماتا ہے۔} یعنی اللہ تعالی قیامت تک ہونے والے دنیا کے تمام کاموں کی اپنے حکم امر اور اپنے قضا و قدر سے تدبیر فرماتا ہے ۔ پھر دنیا کے فنا ہو جانے کے بعد اس دن امر و تدبیر یعنی بندوں کو حاصل ظاہری تصرف بھی اللہ تعالی کے پاس منتقل ہو جائے گا جس کی مقدار دنیا کے ایام کے حساب سے ہزارسال ہے اور وہ دن روز قیامت ہے۔(خازن السجدۃ تحت الایۃ: ۵ ۳ / ۴۷۵ صاوی السجدۃ تحت الایۃ: ۵ ۵ / ۱۶۱۲ ملتقطا) قیامت کے دن کی درازی: یاد رہے کہ قیامت کے دن کی درازی بعض کافروں کے لئے ہزار برس کے برابر ہوگی اور بعض کے لئے پچاس ہزار برس کے برابر جیسا کہ سورہ معارج میں ہے: ’’تعرج الملىكة و الروح الیه فی یوم كان مقداره خمسین الف سنة‘‘(معارج:۴) ترجمہ کنزالعرفان: فرشتے اور جبرائیل اس کی بارگاہ کی طرف چڑھتے ہیں وہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ اور مومن پر یہ دن ایک فرض نماز کے وقت سے بھی ہلکا ہوگا جو دنیا میں پڑھتا تھا جیسا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے!قیامت کا دن مومن پر ہلکا ہو گا حتی کہ ا س فرض نماز سے بھی زیادہ ہلکا ہو گا جو مومن دنیا میں پڑھا کرتا تھا۔(مسند امام احمد مسند ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ ۴ / ۱۵۱ الحدیث: ۱۱۷۱۷)