Surah Az Zumar Ayat 19 (39:19)
The Troops · Juz 23 · Makki
اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِؕ-اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِ 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیا وہ جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی ہے (وہ نجات والوں کے برابر ہوجائے گا؟ ہرگز نہیں ۔) تو کیا تم اسے جو آگ کا مستحق ہے بچالو گے؟.
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا وہ جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی نجات والوں کے برابر ہوجائے گا تو کیا تم ہدایت دے کر آگ کے مستحق کو بچالو گے۔
Tafseer (Urdu)
{افمن حق علیه كلمة العذاب: تو کیا وہ جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی ہے۔} بت پرستی سے بچنے والوں کا حال بیان کرنے کے بعد یہاں سے بت پرستوں کا حال بیان کیا جارہا ہے۔اس ایت کا معنی یہ ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالی کے علم میں ہے کہ وہ جہنمی ہے کیا وہ اس کی طرح ہو سکتا ہے جس پر عذاب واجب نہیں ہوا۔ (وہ ہر گز اس کی طرح نہیں ہو سکتا۔)( روح البیان الزمر تحت الایۃ: ۱۹ ۴ / ۹۱-۹۲ تفسیر سمرقندی الزمر تحت الایۃ: ۱۹ ۳ / ۱۴۷ ملتقطا) {افانت تنقذ من فی النار: تو کیا تم اسے جو اگ میں ہے بچالو گے} اس ایت کا معنی یہ ہے کہ (جو ازلی بدبخت ہے اور) جس کے بارے میں اللہ تعالی کے علم میں ہے کہ وہ اپنے خبیث اعمال کی وجہ سے جہنم میں جانے کا حقدار ہے تو کیا اپ اسے ہدایت دے کر جہنم سے بچالیں گے ہر گز نہیں ۔(تفسیر سمرقندی الزمرتحت الایۃ:۱۹ ۳ / ۱۴۷ جلالین الزمرتحت الایۃ:۱۹ص۳۸۶ خازن الزمر تحت الایۃ: ۱۹ ۴ / ۵۲ ملتقطا)