Surah Az Zumar Ayat 36 (39:36)
The Troops · Juz 24 · Makki
اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗؕ-وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖؕ-وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 36
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں؟ اور وہ تمہیں اللہ کے سوا دوسروں سے ڈراتے ہیں اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کیلئے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا اللہ اپنے بندوں کو کافی نہیں اور تمہیں ڈراتے ہیں اس کے سوا اَوروں سے اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کی کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{الیس الله بكاف عبده: کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں } اس ایت میں ’’بندے‘‘ سے مراد سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں جیسے وہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام جن کے ساتھ ان کی قوموں نے ایذا رسانی کے ارادے کئے اللہ تعالی نے انہیں دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھا اور ان کی کفایت فرمائیجیسے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کو غرق ہونے سے محفوظ رکھا اور حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو اگ میں سلامت رکھاتو اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب اللہ تعالی اپ سے پہلے رسولوں کو کافی رہا تو اپ کے لئے کیوں کافی نہ ہو گا یقینا جس طرح اللہ تعالی اپ سے پہلے رسولوں کوکافی تھا اسی طرح اپ کو بھی کافی ہے۔ {و یخوفونك بالذین من دونه: اور وہ تمہیں اللہ کے سوا دوسروں سے ڈراتے ہیں ۔} شان نزول:بعض مفسرین نے فرمایا کہ کفار عرب نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوبتوں سے ڈرانا چاہا اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کہا کہ آپ ہمارے معبودوں یعنی بتوں کی برائی بیان کرنے سے باز آئیے ورنہ وہ آپ کو اس طرح نقصان پہنچائیں گے کہ ہلاک کردیں گے یا عقل کو فاسد کردیں گے۔ (خازن الزمر تحت الایۃ: ۳۶ ۴ / ۵۶) اس پر یہ ایت نازل ہوئی اور بعض مفسرین کے نزدیک یہ ایت حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جیسا کہ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ عزی بت کی طرف گئے تاکہ اسے کلہاڑے کے ذریعے توڑ دیں جب اس کے قریب پہنچے تو اس کے خدمتگار نے کہا ’’اے خالد بن ولید! اس بت سے ڈرو کیونکہ یہ بڑی قوت والا ہے اور اس کے سامنے کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی۔حضرت خالدبن ولید رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کی پرواہ کئے بغیر کلہاڑے سے عزی بت کی ناک توڑ دی اور پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔حضرت خالد رضی اللہ تعالی عنہ کو ڈرانا گویا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ڈرانا ہے کیونکہ اپ رضی اللہ تعالی عنہ نے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حکم سے ہی یہ کام کیا تھا اس لئے ایت میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے فرمایا گیا کہ وہ تمہیں اللہ تعالی کے سوا دوسروں سے ڈراتے ہیں ۔(قرطبی الزمر تحت الایۃ: ۳۶ ۸ / ۱۸۸ الجزء الخامس عشر) ایت کے اس حصے کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کفار کی حماقت کا یہ حال ہے کہ وہ اپ کو اللہ تعالی کے سوا اپنے بنائے ہوئے جھوٹے معبودوں سے ڈراتے ہیں حالانکہ ان کے بناوٹی معبود خود بے جان اور بے بس ہیں اور اگر بالفرض انہیں کوئی قدرت حاصل بھی ہوتی تو وہ اللہ تعالی کے مقابلے میں عاجز ہی رہتے اور جب حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندے کو کافی ہے تو ان کا اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے معبودوں سے ڈرانا باطل اور بے کار ہے ۔ {و من یضلل الله فما له من هاد: اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کیلئے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ۔} ایت کے اس حصے اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ باتیں اسی وقت فائدہ مند ہیں جب بندے کو ہدایت اور توفیق حاصل ہو اوراصل بات یہ ہے کہ جس کی بد عملیوں کی وجہ سے اللہ تعالی اس میں گمراہی پیدا فرما دے تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور جسے اللہ تعالی ہدایت یعنی ایمان کا نور دے تواسے کوئی بہکانے والا نہیں ۔مزید فرمایا کہ کیا اللہ تعالی سب پر غالب اور بدلہ لینے والا نہیں کیوں نہیں یقینا ہے توجب اللہ تعالی ہی غالب ہے اور بتوں کا عاجز و بے بس ہونابھی ظاہر ہے تو پھر کافروں کا بتوں سے ڈرانا حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔