Surah Az Zumar Ayat 5 (39:5)
The Troops · Juz 23 · Makki
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّۚ-یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَؕ-كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے،وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگایا ہر ایک، ایک مقررہ مدت تک چلتا رہے گا۔ سن لو! وہی عزت والا،بخشنے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاس نے آسمان اور زمین حق بنائے رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اس نے چاند اورسورج کو کام میں لگایا ہر ایک ایک ٹھہرائی میعاد کے لیے چلتا ہے سنتا ہے وہی صاحب ِعزت بخشنے والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{خلق السموت و الارض بالحق: اس نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے۔} اس سے پہلی ایت کے اخر میں بیان فرمایا کہ اللہ تعالی واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہ غلبے والا قدرت والا ہے اور اس ایت میں اپنے اوصاف بیان کرکے اللہ تعالی نے اپنی وحدانیت اور قدرت کی دلیل دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالی نے زمین اور اسمان باطل اور بیکار نہیں بنائے بلکہ بے شمار حکمتوں پر مشتمل بنائے ہیں وہ کبھی رات کی تاریکی سے دن کے ایک حصہ کو چھپاتا ہے اور کبھی دن کی روشنی سے رات کے حصہ کو۔ مراد یہ ہے کہ کبھی دن کا وقت کم کر کے رات کو بڑھاتا ہے اور کبھی رات کا وقت کم کر کے دن کو زیادہ کرتا ہے یوں رات اور دن میں سے کم ہونے والا کم ہوتے ہوتے کئی گھنٹے کم ہو جاتا ہے اور بڑھنے والا بڑھتے بڑھتے کئی گھنٹے بڑھ جاتا ہے اور اللہ تعالی نے سورج اور چاند کو کام میں لگایا ان میں سے ہر ایک قیامت تک اپنے مقرر نظام پر چلتا رہے گا (جب اللہ تعالی کے اوصاف یہ ہیں تو اس کا کوئی شریک کس طرح ہو سکتا ہے) سن لو! بیشک اللہ تعالی اس شخص کو سزا دینے پر قادر ہے جو سورج اور چاند کی تسخیر سے نصیحت حاصل نہ کرے اور اسے بخشنے والا ہے جو ان میں غورو فکرکر کے نصیحت حاصل کرے اور ان کے نظام کو چلانے والے رب تعالی پر ایمان لے ائے۔( روح البیان الزمر تحت الایۃ : ۵ ۸ / ۷۲-۷۳ خازن الزمر تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۴۹ مدارک الزمر تحت الایۃ: ۵ ص۱۰۳۱ ملتقطا)