Surah Ghafir Ayat 46 (40:46)
The Forgiver · Juz 24 · Makki
اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّاۚ-وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ- اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ 46
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariآ گ جس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی، (حکم ہوگا) فرعون والوں کو سخت تر عذاب میں داخل کرو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanآ گ جس پر صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی حکم ہوگا فرعون والوں کو سخت تر عذاب میں داخل کرو۔
Tafseer (Urdu)
{النار یعرضون علیها غدوا و عشیا: آ گ جس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں ۔} یعنی فرعون اور اس کی قومکو دنیا میں غرق کر دیا گیا پھر انہیں صبح وشام اگ پر پیش کیا جاتا ہے اور وہ اس میں جلائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن فرشتوں کو حکم فرمایا جائے گا کہ فرعون والوں کو جہنم کے سخت تر عذاب میں داخل کردو۔(جلالین غافر تحت الایۃ: ۴۶ ص۳۹۴) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ فرعونیوں کی روحیں سیاہ پرندوں کے قالب میں ہر روز دو مرتبہ صبح و شام آ گ پر پیش کی جاتی ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ آ گ تمہارا مقام ہے اور قیامت تک ان کے ساتھ یہی معمول رہے گا ۔( خازن حم المومن تحت الایۃ: ۴۶ ۴ / ۷۳) عذاب قبر کا ثبوت: اس آیت سے عذاب قبر کے ثبوت پر استدلال کیا جاتا ہے کیونکہ یہاں پہلے صبح و شام فرعونیوں کو اگ پر پیش کئے جانے کا ذکر ہوا اور اس کے بعد قیامت کے دن سخت تر عذاب میں داخل کئے جانے کا بیان ہوا اس سے معلوم ہوا کہ قیامت سے پہلے بھی انہیں اگ پر پیش کرکے عذاب دیا جا رہاہے اور یہی قبر کا عذاب ہے۔ کثیر احادیث سے بھی قبر کا عذاب بر حق ہونا ثابت ہے ان میں سے ایک حدیث پاک یہ ہے چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر مرنے والے پر اس کا مقام صبح و شام پیش کیا جاتا ہے جنتی پر جنت کا اور دوزخی پر دوزخ کا اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالی تجھے اس کی طرف اٹھائے ۔( صحیح بخاری کتاب الجنائز باب المیت یعرض علیہ مقعدہ... الخ ۱ / ۴۶۵ الحدیث: ۱۳۷۹۰) اللہ تعالی ہمیں اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صدقے قبر کے عذاب سے محفوظ فرمائے امین۔