Surah Ghafir Ayat 83 (40:83)
The Forgiver · Juz 24 · Makki
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ 83
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو جب ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لائے، تو وہ اسی پر خوش رہے جو ان کے پاس (دنیا کا) علم تھا اور انہیں پر الٹ پڑا جس کی ہنسی بناتے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو جب ان کے پاس اُن کے رسول روشن دلیلیں لائے تو وہ اسی پر خوش رہے جو ان کے پاس دنیا کا علم تھا اور انھیں پر الٹ پڑا جس کی ہنسی بناتے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{فلما جآءتهم رسلهم بالبینت: تو جب ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لائے۔} یعنی سابقہ لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب ان کے پاس ان کے رسول علیہم الصلوۃ والسلام روشن دلیلیں اور معجزات لے کرائے تو وہ اپنے پاس موجود علم پرہی خوش رہے اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے علم کی طرف مائل نہ ہوئے اسے حاصل کرنے اور اس سے نفع اٹھانے کی طرف متوجہ نہ ہوئے بلکہ اس کو حقیر جانا اور اس کی ہنسی بنائی اور اپنے علم کو پسند کرتے رہے۔ یہاں کافروں کے علم سے مراد ان کے دنیوی علوم ہیں جیسے پیشوں صنعتوں ستارہ شناسی منطق اور فلسفہ وغیرہ کا علمیااس سے مراد ان کے فاسد عقائد اور باطل شبہات ہیں جیسے وہ کہتے تھے کہ ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا قیامت قائم نہیں ہو گی اعمال کا حساب ہونے کی کوئی حقیقت نہیں اورہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا وغیرہ اور یہ در حقیقت علم نہیں بلکہ جہالت ہے اور اس پر علم کا اطلاق اس معنی میں ہے کہ کافر اسے اپنے گمان میں علم سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ۔ایت کے اخر میں ارشاد فرمایا گیاکہ رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کا مذاق اڑانے اوران کے علوم کو حقیر جاننے کی بنا پر کافروں کا انجام یہ ہوا کہ وہ عذاب میں مبتلا کر دئیے گئے۔( خازن حم المومن تحت الایۃ: ۸۳ ۴ / ۷۹ روح البیان المومن تحت الایۃ: ۸۳ ۸ / ۲۲۰ ملتقطا) دنیوی علوم کے مقابلے میں دینی علوم کو کمتر خیال کرنا کفار کا طریقہ ہے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ دنیوی علوم کے مقابلے میں دینی علوم کو کم تر خیال کرنا اور دین کی بجائے دنیا کا علم حاصل ہونے پر نازاں ہونااور اسے اپنے لئے کافی سمجھناکفار کاپسندیدہ لیکن خدا کی بارگاہ میں ناپسندیدہ طریقہ ہے اور سابقہ زمانوں میں بھی اس طرح ہوتا ایا ہے کہ منطق اور فلسفہ میں مہارت کا دعوی کرنے والے لوگ اپنے علم کی وجہ سے خود کوانبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے علم سے بے پرواہ سمجھا کرتے تھے اور کچھ ایسا ہی حال اج کے غیر مسلم یا ان کے اندھے مقلد سائنس دانوں کا ہے کہ ان کے نزدیک قران مجید کے بیان کردہ حقائق سے زیادہ سائنسی خیالات سچے لگتے ہیں ۔اللہ تعالی ہی انہیں ہدایت اور عقل سلیم عطا فرمائے امین۔